حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 526 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 526

مَیں نے رؤیا دیکھی ہے اس سے خدشہ معلوم ہوتا ہے۔پس باہر نکل کر نہیں لڑنا چاہیئے مگر بعض تیز طبیعت صحابہؓ نے عرض کیا۔نہیں حضور باہر ہی چلنا چاہیئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب صحابہ کا جوش دیکھا تو فرمایا اچھا۔آپ نے د و زِرہیںپہن لیں۔صحابہ ؓ یہ دیکھ کر ڈرے اور سمجھ لیا کہ امر بہت خطرناک معلوم ہوتا ہے۔پھر عرض کیا کہ حضور اندر ہی لڑیں گے۔آپ نے فرمایا نبی جب کِسی چیز کی تیاری کر لیتا تو رُک نہیں سکتا۔اب یہ اس موقع کا ذکر ہے۔:تُو بٹھاتا تھا مومنوں کو جگہ بہ جگہ جہاں انہیں کھڑے ہو کر لڑنا چاہیئے۔اِس سے ایک سبق تمہارے لئے نکلتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ، مناظرہ، مباحثہ بے شک کرو مگر اپنے امام کی منشاکے ماتحت۔کیونکہ یہ ترتیب جس کا انجام فتح و ظفر ہو اﷲ کے بندے ہی جانتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء)   :یہ گروہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے۔خدا نے پَردہ پوشی کی۔انہوں نے خود ہی اپنے نام بتائے۔کسی نے کہاتَفْشَلَا کے الزام کے نیچے آنا کیوں ظاہر کرتے ہو؟ کہنے لگے وَ اﷲُ وَ لِیُّھُمَا کی خوشخبری خموش نہیں رہنے دیتی۔مومن انسان کبھی کبھی کمزور ہو جاتا ہے۔یہ جنگ کا موقع ، پھر شہوت کا مقابلہ، غیظ و غضب کا مقابلہ، بُزدلی کا مقابلہ۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ بڑے اِبتلا کا مقام ہیں۔اب نظیر دیتا ہے کہ بدر میں جب تم تھوڑے اور بے مقدور تھے عمائدِ مکّہ پر فتحیاب ہو چکے۔پس تم اﷲ کو اپنا سپر بناؤ وہ تمہیں ہلاکت سے محفوظ رکھے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء)