حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 522 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 522

سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں بلکہ مابعدالموت کو باعثِ اَجر اور رحمتِ الہٰی ہو گی۔(الحکم ۱۴؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۸)     : ہاں مسلمانوں کے معاہدہ کے نیچے یا دوسرے لوگوں کے معاہدہ و تعلّقات کے اندر اس سے کچھ محفوظ رہ سکتے ہیں۔تقدیر عبارت یُوں ہے اَیْنَ مَا ثُقِفُوْا مَا عُصِمُوْا مِنَ الذِّلَّۃِ اِلَّا عُصِمُوْا بِحَبْلٍ مِّنَ اﷲِ۔یہ عُصِمُوْا مَیں نے دو آیات سے نکالا ہے (اٰل عمران:۱۰۴)اور ( اٰل عمران:۱۰۲)مطلب یہ ہے کہ جہاں پائے گئے ذِلّت سے نہیں بچیں گے۔مگر مسلمانوں کے عہد نامہ میں اِس بڑی ذِلّت سے کچھ نہ کچھ بچ سکتے ہیں۔ایک اَور معنے ہیں وہ یہ کہ یہودی ہمیشہ ذِلّت میں رہیں گے ہاں اگر اﷲ کی رسّی کے نیچے آجاویں یعنی مسلمان ہو جاویں یا کوئی اَور مذہب اختیار کر لیں تو پھر بچ سکیں گے۔یہودی یہودی رہ کر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔اِلَّا کو عطفہ بھی بنایا ہے یعنی وَلَّا مطلب یہ ہے کہ وہ ذِلّت سے نہ بچیں گے خود مسلمانوں سے عہدنامہ کریں یا کِسی دوسرے مذہب سے۔