حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 521 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 521

نیک باتوں کا امر کرتے اور بُری باتوں سے منع کرتے اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہو۔(نور الدین ( ایڈیشن سوم) صفحہ۱۷) وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرتے ہیں ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں ایک وہ جو محض اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی رضاکو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے اس کو ادا کریں۔بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں اور اپنے آپ کو خیرِ اُمّت میں داخل ہونے کی فِکر ہوتی ہے جس کا ذکر یُوں کیا گیا ہے  تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر۔…مَیں دُنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود، ان کے حَوصلے چھوٹے خیالات پَست ہوتے ہیں۔جس واعظ کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دُنیوی وعظ سب اس کے اندر آ جاتے ہیں کیونکہ وہ ایک اَمر بالمعروف کرتا ہے۔ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا ہے اور ہر بُری بات سے روکنے والا ہوتا ہے۔(الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴،۱۵)   :محض زبانی بکواس کر لیں۔اس کے سوا اَور کیا بگاڑ سکتے ہیں۔:مَیں تو اس کے یہی معنے کرتا ہوں۔پھر کبھی بھی ان کو نصرت نہ دی جاویگی۔تیرہ سَو برس سے یہود کا یہ حال دُنیا دیکھ رہی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) :یہ تکلیف ایک معمولی سی ہو گی کوئی بڑی بھاری تکلیف نہ ہو گی۔دیکھو خدا نے ہم کو بڑی مصیبت سے بچا لیا کہ تفرقہ سے بچا لیا۔اگر تم میں تفرقہ ہو جاتا اور موجودہ رنگ میں تم وحدت کی رسّی میں پروئے نہ جاتے اور تم تِتّر بِتّر ہو جاتے تو واقعی بڑی بھاری مصیبت تھی اور خطرناک اِبتلا۔مگر یہ خدا کا خاص فضل ہے اگر کچھ تھوڑی سی تکلیف ہم کو ہو گی بھی تو یہیں ہو گی اس کا مابعدالموت