حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 518
:گروہ : امر بالمعروف اور نہی عنِ المنکر کو مَیں نے تو آزما لیا۔اِس سے انسان مظفّر و منصور ہو جاتا ہے۔ایک مظفّر و منصور ہونا تو تم نے دیکھ لیا کہ مَیں بھی تمہیں سے ایک تھا اور تمہارا پِیر بن گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸جولائی ۱۹۰۹ء) :دیکھو تفرقہ بہت بُری چیز ہے اور اس کا انجام دُکھ اور دَرد اور ذِلّت کی زندگی کے سوا کچھ نہیں۔عیب چینی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کرنا چھوڑ دو۔اِس قِسم کی نازک خیالی ٹھیک نہیں کہ فلاں کی جیب میں دو پیسے ہیں شاید اس نے کہیں سے چُرائے ہیں۔اب رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا چور بحالتِ ایمان ، چوری نہیں کرتا اور جو چور ہے اس کا گویا خدا کے رزاق ہونے پر ایمان نہیں اور چوری کو خدا کے وعدہ پر مقدّم کرتے ہو۔اِس لئے کافر ہو۔دیکھو ایک شخص کہاں سے کہاں جا پہنچا۔رسولِ کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ تم اپنے باپوں کو گالیاں نہ دو۔صحابہؓ نے عرض کیا حضرت کوئی اپنے باپ کو بھی گالی دیتا ہے ( اب تو بیٹے باپ کو مارتے بھی ہیں) تو آپ نے فرمایا جب تم نے کسی کے باپ کو گالی دی تو گویا اپنے باپ کو دی کیونکہ وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔