حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 50
صفائی اور طہارت کا لازمی نتیجہ ہے۔بد یہی بات ہے کہ ہاتھ مُنہ دھونے وغیرہ افعال جوارح سے حتماً ایک قِسم کی بشاشت اور تازگی عقلی قوٰی میں پیدا ہوتی ہے۔علی الصّباح بستِر غفلت سے اُٹھ کر بدنی طہارت کی طرف متوجّہ ہونا تمام مہذّبین بلاد میں ایک عام لازمی عادت ہے۔صاف عیاں ہوتا ہے کہ تقاضائے فطرت سے اس کے زورو اجبار سے یہ دائمی عادات پیدا ہوئے ہیں اور طبیعت اعضاء و جوارح سے جبراً اس خدمت کا لینا پسند کرتی ہے۔پس اگر ایسی عبادت میں جس میں روحانی جوشوں اور اصلی باطنی طہارت کا اِظہار مقصود ہو ایسی طہارت ظاہری کو لازمی اور لابدی کر دیا جاوے تو کِس قدر اس شوق و ذوق کو تائید ہو گی۔صاف واضح ہے کہ جہاں خالی طہارت اور ظاہری صفائی کا حکم ہو گا وہاں باطنی طہارت اور ربّانی صفائی کی کتنی اَور زیادہ تاکید ہو گی۔غرض اِس میں شک نہیں کہ صفائیِ ظاہر کی طرف طبعًا ہر قوم متوجّہ ہے اور اِس میں بھی شک نہیں کہ نہایت بد بخت سیاہ درُوں ہیں جو صرف جسمانی صفائی اور ظاہری زیب و زینت کی فِکر میں لگے رہتے ہیں۔یقینا بہت سے انہیں ظاہری رسوم کی پابندی اور انہیں فانی قیود میں ایسے اُلجھے ہیں کہ قساوتِ قلبی اور بَد اَخلاقی کے سوا کوئی نتیجہ ان کے اعمال و افعال پر مترتّب نہیں ہؤا۔اِس کی وجہ صرف یہ ہوئی کہ انہوں نے ظاہر ہی کو مقصود بالذّات اور قِبلۂ ہمّت ٹھہرا لیا یا ان کے پاس کوئی روحانی شریعت نہ تھی جو مجاز سے حقیقت کی طرف ان کو لے جاتی مگر اس سے نفسِ فعلِ طہارت قبیح یا مستوجب ملامت نہیں ٹھہرتا۔اِس عملی افراط و تفریط کے اَور ہی موجبات اور بواعث ہیں۔ہمیں اِس وقت اَور قوموں کے رسوم سے تعرّض کی ضرورت نہیں اس وقت ہم اسلامی طہارت ( وضو) کو پیشِ نطر رکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ غیر قوموں نے اسلامی اعمال پر انصاف سے غور نہیںکیا۔انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مسلمانوں نے ، ہاں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سُنّت پر چلنے والوں نے ہرگز ظاہری طہارت میں خوض نہیں کیا۔وہ اسی کو مقصود بالذّات نہیں سمجھتے کیونکہ ایک پیچھے آنے والے جلیل الشّان حقیقی فعل نماز کا یہ عمل مقدمہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل تو صرف نشان یا دلیل دوسرے امر کی ہے۔وضومیں مسلمانوں کو جو دعا پڑھنے کی نصیحت کی گئی ہے یقینا مُعترض کو راہِ حق پر آنے کی ہدایت کرتی ہے۔سُنواور غور کرو۔وَ ھُوَ ھٰذَا: