حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 516
میںایک حکم ہے کہ ایسا کرو اور دوسری نہی ہے کہ ایسا نہ کرو۔امر و حکم میں ارشاد ہے کہ ایک ہو جاؤ۔پس شخصی وحدت تو یہ تھی کہ ہر ایک انسان کا دل و زبان اور اس کے تمام اعضاء میں باہم وحدت ہو۔ایسا نہ ہو کہ دل میں کچھ ہے اور زبان پر کچھ۔اور آنکھ کچھ اشارہ کرتی ہے اور اعضاء کچھ اَور کہتے ہیں اور قومی وحدت یہ تھی کہ باہم ایسے تنازعے نہ ہوتے۔امانت جسے رعایا کہتے ہیں کو عام تکلیف نہ پہنچتی بلکہ اس امانتِ الہٰیّہ کو ہر طرح ارام و راحت ملتی اور خود غرضی اور لالچِ دُنیا جو رَأسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ ہے پھُوٹ کا موجب نہ ہوتا۔(نورالدین ( ایڈیشن سوم) صفحہ ۵۹) :سب کے سب مِل کر حبل اﷲ کو پکڑ لو۔مجھے نہایت رنج اور قلق سے کہنا پڑتا ہے کہ اس حکم پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا۔حبل اﷲ یعنی قُرآن کریم کو پکڑنا چاہیئے تھا مگر اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔تمہاری کوئی حرکت اور سکون، کوئی رسم اور پابندی اس رسن سے الگ نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ کو سپر بنانے کے واسطے اس کی رضامندی کی راہوں کو معلوم کرنا از بس ضروری تھا اور وہ بیان ہوئی ہیں قرآن کریم میں۔اِس لئے اس کو مضبوطی سے پکڑنے کا ارشاد ہوا۔( الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۶) ہر مدرسہ میں ایک رَسّہ ہوتا ہے۔کچھ لڑکے ایک طرف سے پکڑتے ہیں اور کچھ دوسری طرف سے اور آپس میں کھیلتے ہیں۔کبھی وہ فتح پا لیتے ہیں اور کبھی وہ۔اور کبھی رسّہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔مگر اﷲ کریم فرماتا ہے ہم نے بھی ایک رسّہ بھیجا ہے مگر سب مل کر ایک ہی طرف کھینچو۔تفرقہ، بُغض اور عداوت کو بالکل چھوڑ دو۔ایسی کوئی بات تم میں نہ پائی جاتی ہو جس سے تفرقہ پیدا ہو۔دیکھو تم طالبِ علموں میں سے کسی کا باپ اعلیٰ عہدہ پر ہے۔کوئی خوبصورت ہے۔کسی کے پاس مال و دولت بہت ہے، کوئی عقلمندی کا دعوٰی کرنے والا ہے۔کوئی طاقت والا ہے مگر ان پر ناز مت کرو اور بھُول میں مت پڑو۔یاد رکھو اﷲ ایک دن میں تباہ کر دیا کرتا ہے۔بڑے بڑے امیروں اور دولتمندوں کے بچّوں کو مَیں نے بھیک مانگتے اور بھیک مانگ کر مرتے دیکھا ہے اور بعضوں کو مَیں نے اپنے والدین کو گالی نکالتے دیکھا ہے کہ انہوں نے یہ پُختہ حویلیاں اور دَر و دیوار بنائے ہیں اور ایسے محل بنا کر مَر گئے ہیں کہ ہم آسانی سے بیچ بھی نہیں سکتے۔( الحکم ۳۱؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲) :پھر اِس سِلسلہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اﷲِ عَلَیْکُمْ۔الاَیہ۔اس انعامِ الٰہی کو یاد کرو جو تم پر ہؤا ہے۔تم باہم دشمن تھے تمہارے دلوں