حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 515
:اپنے آپ کو دُکھوں سے بچالو۔کِس ذریعہ سے۔: ایک اﷲ کا رَسَنْ ہے اس پر دو قومیں زور لگا رہی ہیں تم سارے مل کر زور لگاؤ تا ذلَّت اور شکست کے دُکھوں سے بچ جاؤ۔ہمارے زمانہ طالبِ علمی میں یہ رسّے کا کھیل نہیں ہوتا تھا مگر اب تو سکولوں میں یہ کھیل رائج ہے۔اِس لئے اِس آیت کی سَمجھ آ سکتی ہے۔:کنارہ :غضب، غیظ، کینہ ، ایک دوسرے کی جَلن۔:اِن تمام جہنّموں سے قرآن نے نکالا۔دیکھو مَیں تمہیں دردِ دل سے کہتا ہوں کہ وحدت بڑی چیز ہے اور ہر قِسم کی کامیابیوں کی جڑ ہے۔صحابہ کرامؓ نے اس کا مزہ چکھا ہے۔ان کی قوم ایک کسمپُرس حالت میں تھی۔صرف وحدت کے ذریعے ساری دُنیا میں عظیم الشّان اور مظفّر و منصور ہو گئی۔جب تک ہر ایک آدمی اپنے اغراض کو چھوڑ کر دوسرے کی ہمدردی میں فنا نہ ہو جاوے یہ بات حاصل نہیں ہوتی۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عمائدِ مکّہ کو دعوت دی اور کہا کوئی تم میں سے ہے جو ہمارا بوجھ اُٹھا سکے۔علیؓ اس وقت ایک نوجوان لڑکے تھے۔آنکھیں بھی اس وقت خراب تھیں۔بڑی جرأت سے کہا کہ مَیں حاضر ہوں یا رسول اﷲ ! اُس وقت لوگوں نے ہنسی اُڑائی مگر خدا کے نزدیک یہ قول ایسا قابلِ قدر تھا کہ تیرہ سَو برس گذر گئے اور مولیٰ مرتضیٰ کی اولاد کا بچّہ بچّہ سیّد ( سردار) کہلاتا ہے۔وہ سچّا خادم بنا تو خدا نے اسے مخدوم بنا دیا۔:یہ خدا کی خدائی کے نشانات ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تفرقہ ڈالنے اور تفرقہ بڑھانے والی باتیں چھوڑ دیں۔ایسی لغو بحثوں سے ،جن میں نہ دین کا فائدہ نہ دُنیا کا، مُونہہ موڑ لو اور سب مِل کر کہ حبلِ اﷲ قرآن مجید کو محکم پکڑو۔دیکھولڑکوں میں ایک رَسّے کا کھیل ہے۔اگر ایک طرف کے لوگ اَور باتوں میں لگ جائیں تو وہ رسّے میں کِس طرح جیت سکتے۔اسی طرح اگر تم اَور بحثوں میں لگ جاؤ گے تو قرآن مجید تمہارے ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔(بدر ۲۹؍جون ۱۹۱۱ء صفحہ۲) الہٰی رَسَنْ (قرآن) کے ساتھ اکٹھے ہو کر اپنا بچاؤ کرو اور الگ الگ نہ ہونا۔اِس آیت کریمہ