حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 514
:بیٹا اپنے باپ کا کہا مانتا ہے۔شاگرد اپنے استاد کا۔محکوم اپنے حاکم کا۔دوست اپنے دوست کا۔اور یہ سب تعلیم کسی فائدہ کے حصول پر مبنی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارا حکم بھی مان لو تا تم فلاحِ دارین پاؤ۔وہ حکم کیا ہے ؟تقوٰی اختیار کرو اپنا سارا زور لگا کر۔:اب موت کا وقت تو معلوم نہیں۔بعض وقت انسان سوتا سوتا ہی مَر جاتا ہے اور مسلمان بننے کا موقع نہیں ملتا اِس لئے آج سے ہی تیاری کر لو اور ہر وقت یہی سمجھو کہ موت قریب ہے تا تمہارا اِنتقال بحالتِ اسلام ہو۔انسان جب کوئی نیکی شروع کرتا ہے تو ہر نیکی کا قول یا فعل یا عمل دوسرے نیک قول یا فعل یا عمل کو پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔گویا ایک نیکی دوسری نیکی کے لئے بمنزلہ زنجیر کی کڑی کے ہے۔پس تقوٰی اختیار کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم مسلمان ہی مرو گے۔تقوٰی کی بہت سی راہیں ہیں ایک ان میں سے یہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) اور سب کے سب مِل کر اﷲکے دین کو مضبوط پکڑو اور فرقہ فرقہ مت بنو۔(نورالدین ( ایڈیشن سوم) صفحہ ۲۰۔ک) حَبْلِ :قرآن شریف اور اسلام۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۷)