حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 513
اچھا نتیجہ نہیں رکھتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) :یعنی جیسے یہود وغیرہ چاہتے تھے کہ اسلام ، صاحبِ اسلام، اصحابِ اسلام کے اندر عیب تلاش کریں اور خود کتنے عیب دار ہوں مگر دوسروں کی معمولی خطاکو بھی گرفت کرنے سے نہ رہیں۔اِسی طرزِ عمل پر اگر تم چلو گے توکافر ہو جاؤ گے۔یُوں تو کوئی ایسا مسلمان نہیں ہوتا جو یہودیوں کافر مانبردار بن جائے۔پس تُطِیْعُوْاکے معنے یہی ہیں کہ ان کے طرزِ عمل پر چلو گے۔جیسے وہ عیب چینی کرتے پھرتے ہیں ایسے ہی تم کرتے رہو گے۔تو اس کا نتیجہ اچھا نہ ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) :مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو! تقوٰی اختیار کرو جیسا کہ تقوٰی اختیار کرنے کا حق ہے۔تقوٰی کیا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہے اور اس کے پہلوؤں سے انسان کِس طرح آگاہ ہو سکتا ہے۔اِس سے مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تقوٰی کا حکم دیتا ہے کہ حقِ تقوٰی ادا کرو۔تقوٰی کہتے ہیں اِس بات کو جس سے انسان دُکھوں اور تکالیف سے بچ سکتا ہے۔عربی زبان میں اس کا نام تقوٰی رکھا ہے۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۹) یَا:اے۔اَیُّھَا:سُن لو۔تمہیں کو سُناتے ہیں۔:وہ لوگ جو ایمان لائے۔