حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 509 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 509

حجرِاَسود کیا ہے؟ ایک بِن گھڑا پتّھر ہے۔چونکہ گھڑے ہوئے پتّھروں کی عبادت ہوتی تھی اِس واسطے ابراہیمؑ اور ان کی اولاد نے یادگار یا نشان کے لئے بِن گھڑے پتّھر رکھے تھے۔پیائِش ۲۸ باب ۱۸۔یعقوبؑ نے پتّھر کھڑا کیا اور اس پر تیل ڈالا اور پیدائش ۳۵ باب ۱۵ اور یشوع ۴ باب ۵،۶۔ہر ایک تم میں سے بنی اسرائیل کے فرقوں کے مطابق ایک ایک پتّھر اپنے کاندھے پر رکھے تاکہ تمہارے درمیان نشان ہو۔پادری اِن باتوں سے انکار نہیں کر سکتے۔پُرانے زمانے میں کیا اِس زمانے میں بھی یہی تصویری زبان کا رواج ہے۔اکثر آریہ وَرت کے قصص تصویری زبان میں ہیں اور کئی اخباروں میں تصویری زبان معمول ہے۔سکندر اور دارا کے قصّے میں تصویری زبان کی گفتگو مشہور ہے۔عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں۔یشوع کے بارہ پتّھر بارہ حواریوں کا اشارہ جانتے ہیں۔یہودی قربانیاں مسیح برّے کی پھانسی بتاتے ہیں بلکہ ختنہ بھی عیسٰیؑ بن مریمؐ کے قتل کا نشان کہتے ہیں۔پولا ہلانا جس کی نسبت احبار ۲۳ باب ۱۰ میں حکم ہے مسیحؑ کا جی اُٹھنا بیان کرتے ہیں۔مَیں کہتا ہوں متی ۲۱ باب ۳۳۔۴۲ میں لکھا ہے بنی اسرائیل کو اﷲ تعالیٰ نے آباد کیا۔ایک باغ کا مہتمم بنایا ( ایک شرع کا) مگر انہوں نے نافرمانی کی یہاں تک کہ اپنے آخری صلح کار ( اکلوتے بیٹے) کو مار ڈالا اِس لئے خدا ان کو سزا دے گا۔کونے کے پتّھر سے جسے معماروں نے ناپسند کیا۔یہی مضمون یسعیاہ ۲۸ باب ۱۶ میں ہے اورد انیال ۲ باب ۳۴ میں ہے۔یہود غیر قوموں کو بھی پتّھر کہتے تھے اور ہمیشہ بنی اسمٰعیل کو یہ معمارِ قوم حقیر جانتے تھے اِلّا عرب میں قدیم سے اسی لئے کہ وہ اَن پڑھ قوم تھی تصویری زبان میں بطور پیشین گوئی اور بشرات کے یہ یسعیاہ ۲۸ باب ۱۶ اور متی ۲۱ باب ۴۲ اور دانیال ۲ باب ۳۴ والا کلام مکّے میں اِس طرح سے تحریر ہؤا کہ بَیت اﷲ کے کونے پر ایک بِن گھڑا پتّھر نصب کیا گیا جس کے ساتھ یہ بات کی جاتی تھی کہ اسے صرف ہاتھ لگاتے جو بیعت اور اقرار کا نشان ہے۔مطلب یہ کہ اس پاک شہر میں وہ کونے کا پتّھر ہو گا جس کے ہاتھ پر بَیعت کرنا ضرور ہے۔جو کوئی اس پر گِرے گا چُور ہو گا جس پر یہ گِرا اُسے پِیس ڈالے گا۔حسبِ بیان دانیال ۲ باب۔بابل کا حال دیکھ لو۔نادان کہتے ہیں مسلمان پتّھر کی پرستش کرتے ہیں۔آریہ اور عیسائی بتائیں عبادت کسے کہتے ہیں۔عبادت میں اُسْتُتِی،حمد اور تعریف، پر ارتھنا یعنی دعا اور اُپا سنا یعنی دھیان ضرور ہے۔بتائیں مسلمان کب اس پتّھر کی تعریف اور اس سے دعا اور اس کا دھیان کرتے ہیں۔اسلامی کسی عبادت میں اس پتّھر کا ذکر ہی