حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 501 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 501

ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیانیکم و ۸؍جولائی۱۹۰۹ء)    دُنیا میں جس قدر بے ایمانیاں ، دھوکہ بازیاں ہوتی ہیں اور لوگ شراب ، زنا، چوری، جھُوٹ سے بھی دریغ نہیں کرتے یہ صرف مال کے لئے ہے اور پھر اِس بارے میں کوئی نصیحت کرے تو اُلٹا اسی پر اعتراض جماتے ہیں۔جب مسلمانوں کو یہ وعظ کیا گیا کہ اِنفاق کرو اور یہود کو بھی ترغیب ہوئی تو وہ بجائے اس کے کہ اس نصیحت کو مانتے، کہنے لگے کہ تم تو حرام خور ہو۔اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ سب چیزیں جو ہم مسلمانوں کے کھانے میں آتی ہیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ہاں وہ جو بنی اسرائیل نے اپنے مرض ریگن ( یعنی رِیح۔ناقل) کی وجہ سے ترک کر دیا تھا ( یہ مَاحَرَّمَ کے معنے ہیں )۔مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰ ۃُ اورکُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْ ٓ اِسْرَآئِ یْلَ تورات کے نزول سے پہلے کی بات ہے۔یہ بات خوب یاد رکھو کہ کُلُّ الطَّعَامِ کے یہ معنی نہیں کہ جو کچھ تورات کے نزول میں حلال و حرام ہے وہی قرآن مجید میں موجود ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ تمام چیزیں جو ہم کھاتے ہیں یہ وہ ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے بھی تورات کے نزول سے پہلے کی حلال تھیں۔پس اگر ان چیزوں کا کھانا حرام خوری ہے تو یہ اعتراض ابراہیم، اسحٰق و یعقوب علیہم السّلام پر بھی ہو سکتا ہے۔رسول کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم فرماتے ہیں کہ مَیں تمہاری کتابوں کا متبع نہیں ہوں۔مَیں ابراہیمؑ کے دین پر قائم ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی۱۹۰۹ء) اب یہ اعتراض رہا کہ جس کو قُرآن کے معانی بدُوں کسی کتاب کے آتے ہیں اسے کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات پاک ایسی تھی کہ ان کوقرآن کے فہم کے واسطے تو کسی کتاب کی ضرورت نہ تھی مگر تاہم قرآن کو کلامِ الہٰی اور جو کچھ قرآن کریم