حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 500 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 500

  :قرآن کریم میں سورہ بقرۃ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے وہاں متّقی کی نسبت فرمایا ہے وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ یعنی جو کچھ اﷲ نے دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔پھر اسی سورۃ میں کئی جگہ اِنفاق فی سبیل اﷲ کی بڑی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔۵ رکوع میں اِس قدر بیان ہے کہ اس سے بڑھ کر اَور کوئی کیا وعظ کر سکتا ہے۔اِنسان دُکھوں کے وقت تو اِنفاق پر مجبور ہوتا ہے مگر حقیقی دنیا تو وہ دنیا ہے جو خوشدلی سے دیا جاوے۔یہود کی نسبت فرمایا ہے (اٰل عمران:۹۲) بے ایمان آدمی جب عذابوں اور دُکھوں کو دیکھے گا تو اس کا دل یہ چاہے گا کہ زمین کی گول کو بھرکر سونا دے دے مگر قبول نہ ہو گا۔پس تم حقیقی نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک کہ تُم مال سے خرچ نہ کرو۔مِمَّا تُحِبُّوْنَ کے معنے میرے نزدیک مال ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (العٰدیٰت :۹)انسان کو مال بہت پیارا ہے پس حقیقی نیکی پانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔: جو کچھ بھی خرچ کرو گے اﷲ کو اس کا عِلم ہے۔یعنی اسے مال کے لینے اور بڑھانے کا خوب علم ہے۔بقرۃ آیت ۲۴۶ میں آیا ہے  کون ہے جو اپنے مالوں کو عمدگی سے الگ کرے اور اﷲ اسے بڑھائے۔اس شخص کے لئے بہت بڑھاتا ہے۔اﷲ مال کو لیتا ہے اور اس کو بڑھاتا