حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 497 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 497

    ایک شخص نے مجھ پر اعتراض کیا کہ تمہار قرآن شریف اپنے نبی کی نسبت پیشگوئیاں تو اگلی کتب سے بیان کرتا ہے مگر درس اور باب کا حوالہ نہیں دیتا۔اﷲ تعالیٰ نے مجھے بہت عمدہ جواب سمجھایا۔مَیں نے وقفہ دے کر ایک انجیل ہاتھ میں لی اور کہا کہ اِس میں مسیحؑ کی نسبت بعض پیشگوئیاں عہد نامہ عتیق سے دی گئی ہیں مگر باب اور درس کا ذکر نہیں۔اسے خدا جانے اپنی بات یاد نہ رہی۔کہنے لگا باب اور درس تو چودھویں صدی کے بعد بنے ہیں۔اِس پر مَیں نے اُسے کہا کہ ذرا ہوش میں آؤ۔قرآن شریف نے بھی اس وقت ان پیشگوئیوں کے حوالے دیئے ہیں جب کہ باب و درس نہیں تھے۔وہ بہت ہی شرمندہ ہؤا۔ایک عیسائی عورت سے مَیں نے پوچھا کہ وہ ناصری کہلائے گا۔توریت میں کہاں موجود ہے وہ کہنے لگی تورات میں تو کہیں ہے نہیں۔مَیں نے کہا تو پھر اس مذہب کی پابند کِس طرح ہو۔کہنے لگی میرا خاوند پادری ہے۔میثاق النّبیّٖن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ یہاں کُل نبی مراد ہیں چنانچہ اعمال باب ۳ آیت ۲۱ میں ہے کہ نبیوں نے اِس بات کی دعا کی ہے تا تازگی بخش ایّام آئیں اور ضرور ہے کہ آسمان اسے روکے رہے جب تک کہ وہ جو تمام نبیوں نے کہا پورا ہو اور موسٰیؑ کے مثیل نبی آئے۔اس کے دو بڑے