حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 490 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 490

کو بھی خدا سمجھئے۔اس کے اختیارات میں معاصی کی مغفرت کا اعتقاد تھا۔پوپ ایک زمانہ میں بادشاہ بھی تھا۔ایک گروہ مریمؑ کو خداوند کی ماں کہتا اور اس کی توتصویر کے آگے سجدہ کرتا ہے۔ایک رُوح القدس باپ تینوں کو خدا سمجھتا ہے۔فرمایا بہتوں کا ذکر اچھا نہیں ہوتا۔اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اﷲُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ (یوسف :۴۰) پنجابیوں نے اِس نکتہ کو خوب سمجھا ہے۔ایک مثل ہے دو گھروں کا مہمان بھُوکا رہتا ہے۔اَرْبَابًامِّنْ دُوْنِ اﷲِ کے ماننے والوں کو ہم کہتے ہیں کہ ایک خدا میں آپ نے کیا کمی دیکھی ہے جو دوسرے کو بھی اس کے ساتھ ملایا ہے۔جس میں کمی ہے وہ الوہیّت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍جون ۱۹۰۹ء)   :کبھی تو جوش میں آکر کہتے ہیں کہ تورات کی پہلی کتاب سے تثلیث نکلتی ہے۔وہاں الوہیم آیا ہے۔پھر دانیال اور ابراہیم کو بھی تثلیث ماننے والا بتاتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ استنباط تو کرتے ہو تورات سے۔یہ دونوں ابراہیمؑ کے بعد نازل ہوئیں۔کسی مذہب نے اپنا کوئی نام نہیں رکھا۔یہود ا کی طرف منسُوب ہو کر یہودی کہلائے اور مسیحؑ کی طرف منسوب ہو کر مسیحی۔اصل میں ایک ہی نام کُل مذہبوں کا ہو سکتا ہے۔وہ کیا؟ وہی جو مذاہب کا مقصد ہے یعنی راست بازی اور فرمانبرداری۔یعنی اسلام جس کی تعلیم میں کسی قِسم کا شرک نہیں بلکہ عین فطرت کے مطابق ہے۔بچّہ جس وقت بالغ ہوتا ہے تو کم از کم اتنی سمجھ تو اسے آ جاتی ہے کہ مَیں اپنا خالق آپ نہیں بلکہ کوئی اَور مقتدر ہستی ہے۔پس یہی وہ فطرت کی گواہی ہے جس سے شرک کا استیصال ہو جاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍جون ۱۹۰۹ء)