حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 480
ہے وہ رُوحانی ہوتے ہیں۔ایک اَور آیت ہے اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ھُوَ اَعْمٰی (الرّعد :۲۰)کیا وہ جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف اُتارا گیا تیرے رَبّ سے حق ہے برابر ہے اس کے جو اندھا ہے یعنی کلام اﷲ کا مُنکر۔پس اِس آیت میں یہ فرمایا کہ حضرت مسیحؑ نے کہا مَیں اپنی تربیت سے ان اندھوں کو راہِ حق دکھاتا ہوں اور ان کے رُوحانی جذام کو درست کرتا ہوں۔وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اﷲِ :مَوتٰی کا مسئلہ بہت صاف تھا مگر بعض نے اس میں خواہ مخواہ دِقّت پیدا کر لی۔اﷲ نے اِن آیات میں بتا دیا ہے کہ طبعی موت سے مَرے ہوئے حقیقی مُردے کا رجوع دُنیا میں پھر ہرگز نہیں ہوتا اور اﷲ کی یہ سُنّت نہیں کہ ایسے مُردے کو اِسی دُنیا میں زندہ کرے اور زندہ کرنا اﷲ تعالیٰ ہی کا فِعل ہے اِنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی ( الحج :۷)اور فرمایا قُلِ اﷲُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ( الجاثیۃ:۲۷) کہہ دے اﷲ ہی زندہ کرے گا تم کو پھر تمہیں موت دے گا اور حضرت ابراہیمؑ اقرار کرتے ہیں رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ(البقرۃ:۲۵۹) جس سے یہ قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ احیاء صرف اﷲ کا خاصہ ہے پھر مُردوں کے لئے فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْھَا الْمُوْتُ ( الزّمر:۴۳)اورمِنْ وَّ رَآئِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (المؤمنون:۱۰۱)فرما کر اپنی سنّت بتا دی کہ رُوح قیامت تک پھر دُنیا میں آنے سے رُکی رہتی ہے۔اب اگر حضرت عیسٰیٗ یُحْیِْ الْمَوْتٰیکا دعوٰی کرتے ہیں تو اس متشابہ کے معنے ان محکم آیات کے برخلاف نہیں ہو سکتے۔جب ہم تدبّر کرتے ہیں تو قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے تین قِسم کا احیاء ہے۔ایک احیاء اﷲ کا جیسا کہ گزرا (۲ ) ایک احیاء کفّار کا یعنی کافر بھی کر سکتے ہیں جیسا کہ موسٰیؑ کے ساحروں کا ذکر ہے۔فَاِذَا حِبَا لُھُمْ وَ عِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی طٰہٰ :۶۷)کہ ان کی رسّیاں اور لاٹھیاں ان کے سحر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دَوڑ رہی ہیں۔(۳) ایک احیاء پیغمبروں کا جیسا کہ فرمایا اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ (الانفال:۲۵)اﷲ اور اس کے رسول کی مان لو جب وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے بُلائے۔مسیح علیہ السّلام چونکہ رسول تھے اِس لئے ان کے احیاء سے مُراد پیغمبروں والا احیاء ہی لیا جائے گا۔(الانعام:۱۲۳)آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ الٰہی میں مُردہ سے کیا مراد ہوتی ہے اور اس کی زندگی سے کیا مقصود ہے۔یعنی جو شخص دین سے غافل ہو جس میں روحانی زندگی نہ ہو اُسے کلامِ الہٰی کی اصطلاح میں مُردہ کہیں گے۔جب وہ دین سے باخبر ہو اور اس میں روحانیّت آ جائے