حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 46 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 46

صلوٰۃکے معنے دعائے رحمت کے بھی ہیں اور اختصاراً یہاں تمام حقوقِ الہٰی پر شامل ہے اس لحاظ سےکے یہ معنے بھی ہوئے کہ وہ تمام حقوقِ الہٰی کو قائم کرتے ہیں۔(البدر ۲۳؍۳۰ جنوری۱۹۰۳ء) قرآن مجید کی اصل غر ض اور غایت تقوٰی کی تعلیم دینا ہے۔اِتّقاء تین قِسم کاہوتا ہے پہلی قِسم اتّقاء کی عِلمی رنگ رکھتی ہے یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے اس کو کے الفاظ میں ادا کیا اور دوسری قِسم عملی رنگ رکھتی ہے جیسا کہ  میں فرمایا ہے۔اِنسان کی وہ نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مُبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں اِس لئے اﷲ تعالیٰ نے یَقْرَؤٗنَ نہیں فرمایا بلکہ فرمایایعنی جو حق ہے اس کے ادا کرنے کا۔ہر ایک چیز کی ایک عِلّتِ غائی ہوتی ہے اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہوجا تی ہے۔سے لوازم الصَّلٰوۃَ معراج ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے تعلق شروع ہو تا ہے مکاشفات اور رؤیا صالحہ آتے ہیں۔لوگوں سے اِنقطاع ہو جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پَیدا ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ تبتّلِ تام ہو کر خدا سے کامل تعلق پیدا کر لیتا ہے۔(الحکم ۲۱؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ۳ ) صَلٰوۃ۔اس تعظیم اور عبادت کا نام ہے جو زبان، دِل اور اعضاء کے اتّفاق سے ادا کی جاوے کیونکہ ایک منافق کی نماز جو کہ ریاء اور دکھلاوے کی غر ض سے ادا کی گئی ہو نماز نہیں ہے۔نماز بھی ایک تعظیم ہے جس کا تعلق بدن سے ہے۔بدن سے ہے۔بدن کا بڑا حِصّہ دل اور دماغ ہیں۔چونکہ زبان نماز کے الفاظ ادا کرنے میں اور دل و دماغ اس کے مطالب و معانی میں غور کر کے توجّہ اِلی اﷲ کرنے میں اور ظاہری اعضاء ہاتھ پاؤں وغیرہ ظاہری حرکات تعظیم کے ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں اور ان سب کے مجموعہ کا نام بدن یا جسم ہے اِسی لئے بَدنی عبادت کا نام صلوٰۃ ہے۔(الحکم ۲؍اپریل ۱۹۰۸ء) اسلامی نماز اِسلامی دوسری اصل نماز ہے… نماز کیا ہے خدا سے دِلی نیاز۔اوریہ عبادت تمام مذاہب میں اصل عبادت ہے۔اور کچھ شک نہیں دِلی جوشوں کا اثر ظاہری حرکات اور سکنات پر ضرور پڑتا ہے اور ظاہر