حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 475

:لکھنا :تجویز کرنا۔جیسیتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا(العنکبوت :۱۸)خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا(البقرۃ:۳۰) میں۔:ایک احیاء ساحرانِ موسٰیؑ کا۔ایک اﷲ تعالیٰ کا۔ایک نبیوں کا قرآن میں مذکور ہے۔یہاں تیسرا ہی مراد ہو سکتا ہے۔اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ(الانفال :۲۵) :نبی بتاتا ہے کھانا کیا چاہیئے اور رکھنا کیا چاہیئے۔شریعت تورات کے احکام کو یاد دلایا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۶)  :مَیں مٹّی سے پرندہ ایسی ایک چیز بناتا ہوں اور پھر اس میں پھُونک مارتا ہوں پھر وہ خدا کے اِذن سے اُڑنے لگتا ہے۔(نور الدین (ایڈیشن سوم) صفحہ ۱۷۵) :اِن آیات میں پانچ الفاظ تشریح طلب ہیں خلق۔طِیْن۔یَکُوْنُ طَیْرًا۔اُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ۔اُحْیِ الْمَوْتٰی۔خلق کے معنے تجویز کرنے کے ہیں۔بڑا ثبوت ان معنوں کا یہ آیت ہے خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (البقرۃ :۳۰)اب اگر یہ معنے کریں کہ اﷲ تعالیٰ زمین پر سب کچھ پیدا کر چکا ہے تو یہ معنے واقعات کے خلاف ہیں۔اِسی واسطے تفسیر کبیر میں اس کے معنے تقدیر و اندازہ کے لکھے ہیں۔دوسری شہادت اَلْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ (حشر:۲۵)تصویر تو ہر ایک چیز کی نظر آتی ہے۔اِ س سے پہلے بُریٌٌٔٔ کی حالت ہے یعنی جیسے کوئی مصوّر سنگ مَر مَر کی بھدّی شکل کو تراش خراش کر کے بناتا ہے۔پھر اس بُریٔ سے اندازہ ہوتا ہیکَلَقَ کُلَّ شَیْ ئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا (الفرقان :۳) میں بتایا ہے کہخلقٌ کا مرتبہ اندازہ سے بھی پہلے کا ہے۔وہ کیا ہے ؟تجویز! لَکُمْ:تمہاری بھلائی کے لئے۔طِیْن:قرآن مجید میں طین کا دو جگہ ذکر ہے۔ایک جگہ شیطان کا قولخَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَ خَلَقْتَہٰ مِنْ طِیْنٍ (الاعراف :۱۳) تراب۱؎ و ماء کے ملنے کو کہتے ہیں طین۔کیچڑ جو ہوتا ہے اس میں