حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 471
میری بڑی عمر ہو گئی۔مَیں بچّہ تھا پھر جوان ہؤا پھر ادھیڑ پھر بوڑھا مگر مَیں آج تک کبھی کسی خفیہ محفل یا کمیٹی یا جلسہ میں شامل نہیں ہؤا۔میرا ایک بہت پیارا دوست شہر میں تھا مگر مَیں نے اس سے بھی کبھی مخفی ملاقات نہ کی نہ مخفی اس سے گفتگو رکھی۔یہ خدا کا مجھ پر بڑا فضل ہے جو منصوبہ بازوں کو حاصل نہیں ہو سکتا وہ مجھے حاصل ہؤا۔مَیں تمہیں کہاں تک سُناؤں۔سُناتے سُناتے تھک گیا مگر خدا کی نعمتوں کے بیان کرنے سے مَیں نہیں تھکتا اور نہ مجھے تھکنا چاہیئے۔اس نے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے۔یہاں ایک اخبار کے ایڈیٹر نے اپنی نظم چھاپی۔مجھے معلوم نہ تھا۔مَیں اسے پڑھتا اور سجدہ میں گِر گِرجاتا۔چونکہ وہ بہت دَرد سے لکھی ہوئی تھی اِس لئے اس نے میرے دَرد مند دل پر بہت اثر کیا۔وہ صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی نظم تھی۔مَیں جس بات پر شُکر کرتا وہ یہ تھی کہ خدا مجھ پر وہ وقت لایا ہی نہیں کہ مجھے معلوم نہ تھا۔مَیں نے ہوش سنبھالتے ہی مولوی خرم علی، مولوی اسمٰعیل، مولوی محمد اسحٰق کی کتابوں نصیحۃ المسلمین، تقویؤ الایمان، روایات المسلمین کو پڑھا اور ان سے توحید کا وہ سبق پڑھا کہ ہر غلطی سے بحمدِاﷲ محفوظ رہا۔غرض خدا تعالیٰ جن کو نوازتا ہے ان کے لئے عالمِ اسباب کو بھی ان کا خادم کر دیتا ہے۔زکریاؑ اور مریمؑ کے گھر میں جو اولاد ہوئی اس میں ایک اسباب پرست تعجّب کر سکتا ہے پھر یہ تمثیل جس عروسِ عرب کے لئے ہے وہ بھی کسی کے لئے باعثِ تعجّب ہو۔مگر یہ سب کچھ پیشگوئی کے ماتحت ہؤا۔یہاں اِس آیت میں جو مریمؑ کے صفات بیان کئے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ اَور کوئی عورت ایسی نہیں گزری۔مگر قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ جو مرض ہو اس کا علاج کرتا ہے جو مرض نہ ہو اس کا ذکر نہیں کرتا۔احمق لوگوں نے سیلمانؑ پر کفر کا فتوٰی دیا تو خدا نے فرمایا وُ مَا کَفَرَسُلَیْمٰنُ( البقرۃ :۱۰۳) ایک عورت کی تہمت دی تو فرمایااَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ ( النّمل :۴۵) حضرت مریمؑ کو یہودیوں نے بُرا کہا تو فرمایا کہ ان کو خدا نے برگزیدہ کیا، پاک بنایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍ جون ۱۹۰۹ء)