حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 464
اِسلام نام ہے فرماں برداری کا۔سارے جہاں کو توموقع نہیں کہ اﷲ کی باتیں سُنے اِس لئے پہلے نبی سُنتا ہے پھر اَور وں کو سُناتا ہے۔سو پہلا مرتبہ یہی ہے کہ نبی کی صُحبت میں رہے اور اس سے فرماں برداری کی راہیں سُنے اور سیکھے چنانچہ اِس بناء پر نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے یہ سمجھایا کہیعنی سرِدست تم میرے تابع ہو جاؤ۔اس کی تعمیل میں ایمان لانے والوں نے جیسا بنی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے سمجھایا، کیا۔کلمہ سکھایا کلمہ پڑھ لیا۔نماز سکھائی تو نماز پڑھ لی۔روزہ ، حج ،زکوٰۃ۔جس طرح فرمایا اسی طرح ادا کیا۔یہ اسلام ہے۔(بدر ۲۷؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ۸) اِنسان کو اپنے خالق و رازق و محسن سے محبّت ہوتی ہے مگر محبّت کا نشان بھی ہونا چاہیئے اِس لئے فرماتا ہےیعنی کہہ دے اگر تمہیں اپنے مولیٰ سے محبّت کا دعوٰی ہے تو اس کی پہچان یہ ہے کہ میری اِتّباع کرو پھر تم محبّ کیا اﷲ کے محبوب بن جاو گے۔(بدر ۲۴؍فروری۱۰ ۱۹ء صفحہ۲) پھر بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہر حرکت وسکون میں ایسی فرمانبرداری نہیں کر سکتے کہ اس میں فنا ہو جاویں اِس لئے فرمایا کہ رسول ہونے کی حیثیّت سے جو حکم اس نے دیئے ان پر عمل کرو۔پس اگر محبوب نہ بنائیں تو کُفر سے تو نکال لیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء ) :اﷲ تعالیٰ نے آدم زاد کو تمام مخلوقات پر برگزیدہ کیا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک عالمِ کبیر ہے تو آدم عالمِ صغیر، تمام اشیاء کا جامع ہے۔پھر آدمیوں میں سے نوح کو اوّل الرسل بنایا۔آدمؑ کو خدا نے رسول نہیں فرمایا بلکہ خلیفہ کہا۔اوّل الرّسل نوح ہی ہیں۔آپ نے اپنی قوم کو ترکِ