حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 463
جبکہ مَیں اپنے خدا کا محبوب ہوں پھر بتاؤ کہ کوئی چاہتا ہے کہ اس کا محبوب ناکام رہے۔پھر خدا مجھے کبھی ناکام نہ رہنے دے گا۔میرے دشمن ذلیل اور ہلاک ہو جائیں گے اور یہ باتیں ایسی سچّی اور صاف ہیں کہ تم خود کر کے دیکھ لو۔میری اطاعت کرو۔میرے نقشِ قدم پر چلو اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہو جاؤ گے اور تمہارے دشمن مردُود اور مخذول ہو کر تباہ ہو جائیں گے۔(الحکم ۳۱؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۵،۶) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم… کامل انسان اﷲ تعالیٰ کا سچّا پرستار بندہ تھا اور ہماری اصلاح کے لئے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ان کے سوا الہٰی رضا ہم معلوم نہیں کر سکتے اور اِسی لئے فرمایاَ۔جس طرح پر اس نے اپنے غیب اور اپنی رضا کی راہیں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے۔اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان آدم، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیٰسی، داؤد، محمد، احمد ہے تو محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپ ہی کی چادر کے نیچے ہو کر ہے۔کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کُھلی ہے تو وہ آپ میں ہو کر۔ورنہ یقینا یقینا سب راہیں بند ہیں۔کوئی شخص براہِ راست اﷲ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کر سکتا۔(الحکم ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۴) جناب الہٰی میں محبوب بننے کے لئے اِتّباعِ رسول کی سخت صرورت ہے۔۔ساری دُنیا کو قربان کر دو۔محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اَتباع پر۔دیکھو۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے کیسی قربانی کی اور آخر اسی قربانی کے وسیلے سے وہ اس وجاہت پر پہنچا کہ خدا کے محبوبوں میں ایک ممتاز محبوب نظر آیا۔جو قربانی کرتا ہے اﷲ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔اﷲ اس کا ولی بن جاتا ہے پھر اسے محبّت کا مظہر بناتا ہے۔پھر اﷲ انہیں عبودیّت بخشتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدود ترقّیاں ہو سکتی ہیں۔(بدر ۲۱؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۸) اگر تم اﷲ سے محبّت رکھتے ہو اور اس سے سچّے تعلّقاتِ محبّت پیدا کرنے کے خواہش مند ہو تو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی متابعت کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اﷲ کے محبوب بن جاؤ گے اِس اصل سے صحابہؓ نے جو فائدہ اُٹھایا ہے ان کے سوانح پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے۔(بدر ۵؍ اگست ۱۹۰۹ء صفحہ۲)