حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 462
:راست باز آدمی کو سچّائی میں کِس قدر طاقت دی جاتی ہے اور کہ راستی میں کِتنی قوّت ہوتی ہے اس کا اندازہ اِس آیت سے ہو سکتا ہے۔دیکھو محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو ارشاد ہے کہ اعلان کر دو مَیں نے خدا کی فرمانبرداری کر کے یہ مقام حاصل کیااب تم میرے پیچھے پیچھے چلو تم بھی خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔ہر شخص کی زندگی کا آرام اُس بستی کے مقتدر کی مہربانی سے وابستہ ہوتا ہے۔پھر اس گاؤں کے نمبردار سے اُوپر چلیں تو اس ضلع کے حاکم سے۔پس اﷲ جو ربّ، رحمٰن ، رحیم اور مالک ہے اس کے ساتھ تعلق۔کس قدر سُکھوں کا موجب ہو سکتا ہے۔یہاں تعلق کا وعدہ نہیں بلکہ فرمایا خدا اپنا محبوب ہمیں بنا لے گا۔خدا پرست دیکھ کر اسے تجربہ کرلے۔کیا مجرّب نسخہ ہے ! مَیں اکثر اوقات اِس آیت کو پڑھ کر بے اختیار نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر درُود بھیجا کرتا ہوں۔لڑکے پڑھنے میں سخت محنت کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سِل اور دِق ہو جاتا ہے تا بی۔اے بن جائیں اور پھر کوئی مرتبہ پائیں۔اب دیکھئے پاس ہونا موہوم، صحت موہوم ، مرتبہ ملنے تک زندہ رہنا خیالی بات۔باوجود اس کے لڑکے محنت کئے جاتے ہیں۔پس وہ انسان کیسا بَد بخت ہے جو اس خدا کے پاک وعدے کی جو ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے کچھ قدر نہ کرے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ شریعت مشکل ہے مگر رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ وسلّم اِعلان کرتے ہیں میری چال اختیار کرو۔کوئی کہہ سکتا ہے ہم بڑے گنہگار ہیں۔فرماتا ہے میرے رنگ میں رنگین ہو جاؤ۔میرے فرمانبردار بن جاؤ۔اﷲ وعدہ کرتا ہے گناہ بخش کر پھر بھی اپنا محبوب بنا لیں گے کیونکہ ہمارا نام غفور، رحیم ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء) محمد و احمد (صلی اﷲ علیہ وسلم)… نے اپنی پاک تعلیم، اپنی مقدّس و مطہّر زندگی اور بے عیب چال چلن اور پھر اپنے طرزِ عمل اور نتائج سے دکھا دیا کہ مَیں اپنے اﷲ کا محبوب ہوں تم اگر اس کے محبوب بننا چاہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اِتّباع کرو۔