حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 452

   :کے دو فاعل آتے ہیں۔چنانچہ (النمل :۲۵)میں گندی باتوں کو مُزیّن شیطان کو بتایا ہے اور (الحجرات :۸)میں اﷲ کو۔ایک اَور مقام پر فرمایا (الانعام :۱۰۹)اکثر لوگ اِس کا ترجمہ غلط کرتے ہیں۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم کسی مذہب کے بزرگ کو بُرا نہ کہو ورنہ وہ تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے۔پھر فرمایا دیکھو ہم ہر قوم کے لئے وہ کام جو اُن کو کرنا چاہیئے کِس خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں اور زُیِّنَ مجہول رکھا ہے تاکہ حسبِ موقع و محل دو طرفہ لگ سکے۔:ایک خواہش ہوتی ہے دوسرا اس خواہش کا پسند کرنا چنانچہ(صٓ:۳۳) کے معنے ہیں گھوڑوں کی محبّت کو مَیں پسند کرتا ہوں۔اِس آیت میں عام انسانی فطرت کو بتایا ہے کہ کوئی جمال پر لٹّو ہے، کوئی جلال پر، کوئی آل پر، کوئی اولاد پر، کوئی سونے چاندی پر، کوئی گھوڑوں پر، مگر یہ سب ورلی زندگی کا سامان ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)