حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 43
کِسی ذی قدر شئے کے اُچک کر لے جانے کے وقت مومن ہوتا ہے جب لوگ نظریں اُٹھا کر اس کو دیکھتے ہوتے ہیں اور وہ پھر بھی اُچک لے جاتا ہے او ر نہ خائن خیانت کے وقت مومن ہوتا ہے تم اس سے بچو۔اور ایک دوسری روایت میں آیا کہ ان سے ایمان نکل کر سایہ بان کی طرح ان کے اُوپر ہوتا ہے۔تو جب وہ اس عمل کو قطع کر دیتا ہے تو اﷲ اس کی طرف ایمان کو لَوٹا دیتا ہے اور صحیح مسلم میں مروی ہے کہ آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ستّرسے کچھ زیادہ شاخیں ہیں۔سب سے اَدنیٰ راستہ سے مُوذی چیز کا دُور کرنا ہے اور حیا ایمان کی ایک بڑی شاخ ہے اور جب آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلمسے یہ سوال ہؤا ہے کہ کونسا ایمان افضل ہے تو آپ نے یہ جواب دیا ہے کہ اَخلاقِ حَسنہ۔اس کو امام احمدؒ نے روایت کیا ہے۔اور امام احمدؒ کی ایک دوسری روایت میں آیا کہ تُو محبت بھی اﷲ ہی کیلئے کرے اور عداوت بھی محض اﷲ ہی کے لئے کرے اور اپنی زبان کو اﷲ کے ذکر میں لگائے اور فرمایا ہے کہ جو شخص محض اﷲ ہی کے لئے دیتا ہے اور اﷲ ہی کے لئے روکتا ہے تو اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا ہوتا ہے۔اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور بخاری میں ہے کہ ایمان کا نشان انصار کی محبت ہے اور مسلم میں ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہٗ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے مومن ہی پیار کرے گا نہ اَور۔اور ابوسلیمان دارانی سے مروی ہے کہ آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلم نے قافلہ کو فرمایا تھا کہ تمہارے ایمان کا کیا نشان ہے تو انہوں نے عرض کی کہ آپ صلّی اﷲ علیہ وسلم کے بھیجے ہوؤں نے ہم کو پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے کہ ہم شہادت دیں کہ اﷲکے سوا اَور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اﷲ کے رسول ہیں اور صلوٰۃ کو قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور رمضان کے روزے رکھیں اور خانہ کعبہ کا حج کریں اور ان پر عمل کریں اور پانچ اشیاء کا حکم دیا ہے انہوں نے کہ ہم ان پر ایمان لائیں۔اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور بعد الموت اُٹھائے جانے پر۔اور پانچ چیزوں کو ہم نے جاہلیّت اور اسلام میں اپنا خَلق بنایا ہے اور وہ یہ ہیں کہ مصیبت کے وقت صبر کرنا اور آرام و آسائش کے وقت شُکر کرنا اور قضاء و قدر کی رفتار پر راضی رہنا۔اور دوسروں کی ملاقات کے مقاموں پر صدق دکھانا اور دشمنوں پر شماتت نہ کرنا اور اس سے زیادہ آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کو یہ فرمایا کہ وہ جمع نہ کرو جو تم نہ کھاؤ اور نہ وہ بناؤ کہ جن میں نہ رہواور نہ ان اشیاء کی رغبت یا ان میں ترقی کرو کہ جن کو تم چھوڑ جانے والے ہو۔اور اس میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرو کہ جس کے طرف تمہارا رجوع ہو گا اور جس پر تم پیش کئے