حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 440
جب ایک فرشتے کی تحریک مانی جاوے تو پھر آہستہ آہستہ بہت فرشتوں سے تعلق پَیدا ہوتا ہے اور بالآخر ان تمام کے سردار جبرائیل سے اور اس کے ذریعہ سے وہ علوم اُترتے ہیں جن کا تعلق قلب سے ہے اور میکائیل کے ذریعے وہ علوم جن کا تعلق دماغ سے ہے۔ان سردارانِ ملائک سے تعلق بڑے لوگوں کو ہوتا ہے جو ان سے کم ہیں وہ کتبِ الہٰیہ پڑھیں۔پھر ایک وہ ہیں جو پڑھنا بھی نہیں جانتے۔ان کے لئے رُسل ہیں۔غُفْرَانَکَ رَبَّنَا:انسان جزع فزع میں بے صبری سے شہوت و حرص کے سبب حضرت حق سُبحانہ‘ کے فیضان سے رُک جاتا ہے۔اِس واسطے استغفار کا حکم دیا۔تمام لوگوں پر ایک وقت قبض و کسل کا آتا ہے اس کے دُور کرنے کے لئے یہ حکمی علاج ہے۔فقہاء آئمہ میں سے ایک امام کا یہ مذہب ہے جو مجھے بھی پسند ہے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ کی دُعا واجب ہے آجکل مسلمان یا تو عجز میں گفتار ہیں یا کسل میں۔عجز کہتے ہیں اسباب مہیّا نہ کرنے کو اور کسل کہتے ہیں اسباب مہیّا شدہ سے کام نہ لینے کو۔ان کو چاہیئے کہ وہ کسل چھوڑ دیں جس کے اسباب میں سے ایک کبرو غرور خودپسندی بھی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء) ہمارا رسول اور دوسرے مومن تو اِس طریق پر چلتے ہیں کہ اﷲ پر ایمان لاتے ہیں۔فرشتوں کی نیک تحریکیں مانتے ہیں اور ان میں تفرقہ نہیں کرتے یعنی یُوں نہیں کہ کسی کو مان لیا اور کسی کو نہ مانا۔پھر ان کی گفتار۔ان کے کردار سے کیا نکلتا ہے ( قَالُوْا کے معنے۔بتایا۔زبان سے یا اپنے کاموں سے ) سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا یعنی ثابت کرتے ہیں کہ صرف وہ اپنی زبان بلکہ اپنے اعمال سے دکھاتے ہیں کہ باتیں سُنیں اور ہم فرمانبردار ہیں۔تیری مغفرت طلب کرتے ہیں۔تیرے حضور ہم نے جانا ہے۔اے مولاؔؔؔ! تُو ہی ہمیں طاقت عطا فرما اور ہمارے نسیان و خطا کا مؤاخذہ نہ کر۔ہم پر وہ بوجھ نہ رکھ جو ہم سے برداشت نہ ہو سکیں۔یہ دعا مومنوں کی ہے تم بھی مانگا کرو اﷲ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ہر وقت جنابِ الہٰی سے مغفرت طلب کرتے رہو اور اسی کو اپنا والی و ناصر جانو۔بعض ادمی ایسے ہیں کہ ان کو سمجھانے والے کے سمجھانے کی برداشت نہیں۔وہ اپنے خیالات کے اندر ایسے مُنہمک ہوتے ہیں کہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔اِس قسم کی بے پرواہی اور تکبّر کا نتیجہ ہے کہ کفّار نے تمہاری سلطنتیں لے لیں اگر تم پورے طور سے خدا کی بادشاہت اپنے اُوپر مان لیتے اور مومن بنتے تو کفّار کے قبضہ میں نہ آتے۔اﷲ بڑا بے پرواہ ہے۔اسے فرمانبرداری پسند ہے۔خدا تعالیٰ آسُودگی بخشے تو متکبّر نہ بنو۔لوگوں کا