حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 435
کئی لوگ اِس غلطی میں مُبتلا ہیں کہ وہ لکھوانے میں اور قانونِ سلطنت کے مطابق رجسٹری وغیرہ کرانے میں تساہل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اجی یہ ہمارے اپنے ہیں یا بڑے بزرگ ہیں ان کی نسبت کیا خطرہ ہے۔مگر آخر اس حکم کی خلاف ورزی کا نتیجہ اُٹھاتے ہیں۔:کَمَاکے معنے ہیں کیونکہ صحیح فرمایا۔کیونکہ اﷲ ہی نے دماغ دیا۔اسی نے فہم دیا۔اسی نے آنکھیں دیں۔کوئی کاتب کتابت نہیں کر سکتا مگر اﷲ کے فضل سے۔اِس لئے اپنی طرف منسُوب فرمایا۔بِالْحَقِّ: : لاہور میں ایک شخص نے میری تقریر سُن کر مجھ سے کہا کیا یہ باتیں آپ کی مجھے لفظ بلفظ یاد رہیں گی۔مَیں نے سادگی سے کہا۔نہیں۔اس پر وہ بولا۔تب یہ حدیثیں وغیرہ سب نامعتبر ہیں کیونکہ جب دس منٹ کے بعد کوئی کلام لفظ بہ لفظ یاد نہیں رہ سکتا تو پھر دو سَو سال کے بعد وہ باتیں کیسے یاد رہ سکتی ہیں۔حدیثیں تو تمام دو سَو سال کے بعد مرتّب ہوئی ہیں۔مَیں نے اسے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک بھُول جائے تو دوسرا یاد کرائے۔اِس اصول کے مطابق ہم حدیثوں کے قدرِ مشترک کو لے لیتے ہیں۔: تم پر گناہ نہیں جو نہ لکھوا سکو۔اِس سے معلوم ہؤا کہ لکھنا بہر حال بہتر ہے۔یہ اِس کلمہ سے خوب ملتا ہے(البقرۃ:۱۵۹) اِس میں طواف واجب ہے۔:شافعی دکاندار معمولی سَودوں میں بھی آس پاس کے دکانوں کے لوگوں کو گواہ کر لیتے ہیں یا کم از کم علیٰ مذہب ابی حنیفہ کہہ کر اعلان کر دیتے ہیں۔لَا یُضَآرََّّ: کا تب کو حقِ کتابت ضرور دینا چاہیئے۔گواہوں کو بھی حرجانہ حسبِ حیثیّت ان کو دینا چاہیئے۔:اﷲ کو سپر بناؤ۔اس کا تقوٰی اختیار کرو۔اﷲ علم دے گا۔یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ تقوٰی کا نتیجہ سچّے علوم کا ملنا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء) نیکی اور بَدی کی شناخت کا اِنحصار ہے قرآن شریف کے علم پر اور وہ منحصر ہے سچّے تقوٰی اور سعی پر۔چنانچہ فرمایا وَاتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲُ۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء نیز ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء)