حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 430
:کمانے کی صورتوں میں سے ایک صورت کمانے کی جہاد کی بہت بھاری دشمن ہے اور وہ سُود ہے۔ربٰواکے بہت ہی خطرناک نتائج مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔سُود خواروں کے اخلاق ایسے خراب ہوتے ہیں کہ ایک سُود خوار کے آگے مَیں نے ایک فقیر کے لئے سفارش کی تو وہ کہنے لگے کہ پانچ روپے مَیں دے تو دوں گا مگر میرے پاس رہتے تو سَو برس میں سُود در سُود سے ۱ ؍ ۱ ۴ لاکھ ہو جاتا۔لکھنؤ میں ایک سلطنت تھی وہ بھی محض سُود سے تباہ ہوئی۔پہلے ان کے مبلّغات پرومیسری نوٹوں کے بدلے میں گئے پھر وہ جنگ کرنے کے قابل نہ رہے اور آخر وہ وقت آیا کہ یہ سلطنت تباہ ہو گئی۔مَیں نے چند مصنّفین کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ربٰوا کے معنے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پر بھی نہ کُھلے۔تعجّب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہاں تک تو فرما دیا کہ فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اﷲِ وَرَسُوْلِہٖ (البقرۃ: ۲۸۰) اور یہ نہ کھولا کہ ربٰوا کیا ہے۔پھر ساہوکار جاہل سے جاہل زمیندار سب جانتے ہیں کہ سُود کیا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء) کَمَا یَقُوْمُ: جنگوں کو نہیں جاتا مگر خبطی کی طرح کیونکہ وہ اپنی اسامیوں کو نہیں مارے گا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۵) :سُود کو مٹاتا ہے اﷲ۔کیونکہ اس کو منع کر دیا۔:اور صدقات کو بڑھاتا ہے اِس طرح کہ ان کے دینے کا حکم دیا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء)