حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 424
وَابِلٌ:پورا مینہ :کسی کے کہنے سُننے سے نہ ہو۔فوری جوش نہ ہو بلکہ دل کے پکّے ارادے سے ہو۔پہلے بتایا خرچ کیوں کرو۔پھر بتایا خرچ کِس طرح کرو۔ریا کے لئے نہ ہو۔احسان نمائی اور تکلیف دہی نہ ہو۔دِلی محبّت سے محض اﷲ کی رضامندی کے لئے ہو۔اب ایک دُنیوی مال دیتا ہے کیونکہ اﷲ اپنی پاک باتیں جو رسولوں کی زبان پر دُنیا کو پہنچاتا ہے اس کے نمونے دُنیا میں رکھے ہوتے ہیں۔رَبْوَۃٌ: اِس کے معنے بعض مترجموں نے غلطی سے اُونچی جگہ یا مَیرا کے کئے ہیں یہ غلط ہے۔یہ ربوؔ سے ہے جس کے معنے ہیں بڑھانا۔پس ربوہ اُس زمین کو بولتے ہیں جس میں سے بیج جلد نکل آوے اور بہت کثرت سے پھُولے پھلے۔پنجاب میں ایسی زمین کو ’’ نیائیں‘‘ بولتے ہیں اور پہاڑوں کے قریب ’’ بجوہ‘‘۔ضِعْفَیْنِ: معمولی سے بہت بڑھ چڑھ کر۔تثنیہ کبھی کثرت کے لئے بھی ہوتا ہے۔جیسیلَبَّیْکَ۔سَعْدَیْکَ۔(الملک:۵) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء)