حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 421

کے ہوتے ہیں دیکھو گھر میں بیس مہمان ہیں اگر انہیں ایک ایک ٹکڑہ دے تو بھی بھُوکے رہنے سے بہتر ہے اور ان مہمانوں کو یہ بات بُری معلوم ہوئی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ رابعہ کا کیا مطلب ہے۔تھوڑی دیر ہوئی تو ایک ملازمہ کسی امیر عورت کی ۱۸ روٹیاں لائی۔رابعہ نے انہیں واپس دیکرفرمایا کہ یہ ہمارا حِصّہ ہرگز نہیں۔واپس لے جاؤ۔اُس نے کہا نہیں ، مَیں بھولی نہیں۔مگر رابعہ نے یہ اصرار کیا کہ نہیں یہ ہمارا حِصّہ نہیں۔ناچار وہ واپس ہوئی۔ابھی دہلیز میں قدم رکھا ہی تھا کہ مالکہ نے چلّا کر کہا کہ تُو اِتنی دیر کہاں رہی۔یہ تو دو قدم پر اس کا گھر ہے۔ابھی تو رابعہ بصری کا حِصّہ پڑا ہے چنانچہ پھر اسے بیس روٹیاں دیں جو وہ لائی تو آپ نے بڑی خوشی سے لے لیں کہ واقعی یہ ہمارا حِصّہ ہے۔اس وقت جاریہ اور مہمانوں نے عرض کیا کہ ہم اِس نکتہ کو سمجھے نہیں۔فرمایا۔جس وقت تم آئے تو میرے پاس دو روٹیاں تھیں۔میرے دِل میں آیا کہ آؤ پھر مَولیٰ کریم سے سَودا کر لیں اس وقت میرے مطالعہ میں یہ آیت تھی مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ‘ عَشْرُ اَمْثَالِھَا اِس لحاظ سے دو کی بجائے بیس آنی چاہیئے تھیں۔یہ اٹھارہ لائی تو مَیں سمجھی کہ مَیں نے تو اپنے مَولیٰ سے سَودا کیا ہے وہ تو بھُولنے والا نہیں۔پس یہی بھُولی ہے۔آخر یہ خیال سچ نکلا۔یہ بات واقعی ہے کہانی قصّہ نہیں۔مَیں نے خود بارہا آزمایا ہے۔مگر خدا کا امتحان مت کرو۔اُس کو تمہارے امتحانوں کی کیا پرواہ ہے۔خدا کے قول کا عِلم عام کھیتی باڑی سے ہو سکتا ہے۔بیج ڈالا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کیڑے کھانے کو موجود، پھر جانور موجود، پھر ہزاروں بَلائیں ہیں، ان سے بچ کر آخر اس دانے کے سینکڑوں دانے بنتے ہیں۔اِسی طرح جو خدا کی راہ میںبیج ڈالا جاوے وہ ضائع نہیں جاتا۔اَب اِس سوال کو جواب تو ہو گیا کہ کیوں دے؟ اَب بتاتا ہے کِس طرح دے؟ اوّل تو یہ کہ محضاِبْتِغَآئِ مَرْضَاتِ اﷲِ دے۔احسان نہ جتائے۔بعض لوگ مُلّاں کو کہتے ہیں ہماری روٹیوں کا پَلا ہؤا۔تو یہ حد درجہ کی سفاہت و کمینگی کی بات ہے۔دوم کسی کو تکلیف نہ دے۔تمام کتبِ الہٰیّہ سے زیادہ قرآنِ مجید میں خیرات کے متعلق ہدایات ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کیوں دے؟ اِس لئے کہ جو اﷲ کی راہ میں دیتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کو بہت عمدہ بدلہ دیتا ہے اس کے مال کو بڑھاتا ہے وَ اﷲُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ۔۲۔یُرْبِی الصَّدَقٰت(البقرۃ :۲۷۷) کیا دے؟ عفو یعنی جو حاجتِ اصلیہ سے زیادہ ہو۔حلال اور طیّب مال دے۔ردّی چیز نہ ہو۔ابتغاء