حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 415
نے ان کو رؤیا میں سب کچھ دکھایا۔یہ ایک عام سُنّت اﷲ ہے کہ جس بات کی تورات میں تفصیل ہو قرآن شریف اس کی طرف اجمالی اشارہ کرتا ہے اور جس کا تورات میں مجمل بیان ہو قرآن سریف اسے مفصّل بیان کرتا ہے۔اِس قِصّہ کو تورات میں خوب کھولا گیا ہے۔وہاں حزقیل باب ۳۷ میں صاف لکھا ہے کہ آپ نے خواب دیکھا ایک وادی میں ہڈیاں بھری ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم بنوت ( پیشگوئی) کرو۔جو سچ بات ہو اس کی مثالیں بہت مِل جاتی ہیں۔چنانچہ اِس طرز کی ایک رؤیا ابوحنیفہ کی بھی ہے کہ آپ نے دیکھا کہ حضرت نبیٔ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر میں ہڈّیوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔معبّرینِ زمانہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے سچّے علم میں ایک بے خبری کا مرض آ گیا تھا آپ کے ذریعہ سے اب یہ دین از سرِ نَو زندہ ہو گا۔اَمَاتَہُ اﷲُکے متعلق مَیں یہ بھی سُنائے دیتا ہوں کہ بعض وقت نبی اُمّت کا قائم مقام ہوتا ہے چنانچہ ہماے نبیٔ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو معراج میں دودھ اور شراب پیش کیا گیا تو آپؐ نے دُودھ پیا تب جبرائیل نے بتایا کہ اگر آپ شراب پیتے تو تمام اُمّت بدکار ہو جاتی۔ایسا ہی ایک مقام پر قرآن کریم میں آیا ہے یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ (الطّلاق: ۲)پہلے نبی سے خطاب ہے مگر پھر آگے چل کر کھول دیا ہے کہ نبی قائم مقامِ اُمّت ہے۔پس اَمَاتَہُ اﷲُسے قوم کی ویرانی و تباہی مراد ہے جو ایک سَو سال تک رہی۔پھر وہ قوم از سرِ نَو زندہ ہوئی۔غرض حز قیل کو خدا نے وہ نظّارہ رؤیا میں دکھایا حز قیل اپنے قیاس سے یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍکہتا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے سَو سال بتاتا ہے مگر ساتھ ہی بتایا ہے کہ تم بھی سچّے ہو کیونکہ طعام و شراب پر سال نہیں گزرے اور رؤیا میں یہ بات ممکن ہے۔چنانچہ سُورۃیوسف میں ایک ذکر ہے کہ بادشاہ نے چَودہ سال قحط و سرسبزی کے ایک آن میں دیکھ لئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ رؤیا کا لفظ یہاں نہیں۔یہ ان کی غلطی ہے۔ (یوسف:۵)انبیاء کے لئے خواب کا اظہار ضروری نہیں ہوتا۔حضرت صاحب ۱؎ سے مَیں نے ایک دفعہ اِس آیت کے معنے دریافت کئے تو آپ نے فرمایا مَیں نے جنابِ الہٰی میں توجّہ کی تو مجھ پر کھلا کہ وہ شخص واقعی مَر گیا تھا۔عرض کیا کہ پھر سَو سال کے بعد اُٹھنا کیا معنے ؟ فرمایا کہ انبیاء کو مرنے کے بعد ایک حیات دی جاتی ہے۔ہمارے نبیٔ کریم ( صلی اﷲ ۱؎ حصرت مسیح موعود علیہ السّلام