حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 413
بھلا دھیان تو کرو اُس شخص کی طرف جس نے ابراہیمؑ راست باز سے ربّ کی بابت بحث کی۔کیا یہ بحث بدلہ تھی اِس بات کا کہ اﷲ تعالیٰ نے اسے بادشاہی دے رکھی تھی۔جب ابراہیم علیہ السّلام راستباز نے کہا میرا رَبّ تو ایسا طاقتور ہے کہ زندہ کرتا اور مارتا ہے تو اس نادان نے ( غور کرو) کیا جواب دیا۔مَیں بھی مارتا اور زندہ کرتا ہوں۔جب ابراہیم علیہ السّلام نے دیکھا کہ یہ ایسا نادان ہے کہ زندہ کرنا اور مارنا ہی نہیں سمجھتا۔تو فرمایا اچھا اﷲ تعالیٰ تو سُورج کو مشرق کی جانب سے طلوع کرتا ہے تُو سُورج کو مغرب کی طرف سے لا دکھا۔اِتنی بات سُن کر کافر بَغلیں جھانکنے لگا اور اﷲ تعالیٰ تو ایسے بدکاروں کو بحث کی سمجھ بھی نہیں دیتا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۸۸) اﷲ تعالیٰ نے … بتایا ہے کہ وہ کیونکر دُنیا میں احیاء و اماتت یعنی ویرانی سے آبادی کرتا ہے۔پہلے تو اِس مضمون پر ایک مباحثہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا مجوسی قوم کے ایک شخص کے ساتھ ہؤا۔اَنْ اٰتٰہُ اﷲُ الْمُلْکَمیں ہُ کی ضمیر کا مرجع اگر حضرت ابراہیمؑ ہوں تو اشارہ ہے (الانعام:۷۶)کی طرف۔اور اگر مرجع وہ خصم عنید ہو تو یہ کہ مخالف کسی جاگیرو جائیداد پر تصرّف رکھتا تھا۔بعض نادانوں کو اِس بات نے بہت گمراہ کیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ ناموں کی تدقیق و تحقیق میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اصل مقصود کی طرف توجّہ نہیں رہتی۔بعض لوگوں نے اس مخالف کو نمرود سمجھا ہے اور پھر یہ اعتراض پیش آیا کہ آیا نمرود حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ میں تھا بھی یا نہیں ؟ حالانکہ اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ ناموں کے پیچھے پڑ جائیں۔کوئی ہو۔ہم نے تو یہ دیکھنا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُمیرا ربّ ہے جو آباد کرتا ہے اور ویران کرتا ہے۔احیاء و اماتت کے اس مقام پر یہی معنے ہیں کیونکہ مُردوں کا اِس دُنیا میں زندہ کرنا سُنّت اﷲ نہیں۔اس مخالف نے بھی یہی مطلب سمجھا۔اِس واسطے جواب میں کہا اِنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُکہ مَیں آباد سے ویران اور ویران سے آباد کرتا ہوں۔کسی کو جاگیر دے دی۔انعام دیا۔آباد ہو گیا۔کسی کو لُوٹ لیا۔ویران ہو گیا۔چونکہ یہ جواب بہت ناقص تھا اور وہ مجوسی۔( قرآن مجید کی متعدّد آیات سے یہ امر واضح ہے کہ ابراہیمؑ کے مقابلہ میں مجوسی قوم تھی ) اور مجوسی اجرام سماوی کی پرستش کرتے تھے۔حضرت ابراہیمؑ نے کئی کئی رنگوں میں ان پر اتمامِ حُجّت کی۔مثلاً ایک جگہ کو کب ، قمر ، سُورج کو بطور استفہام انکاری ھٰذَا رَبِّیْ کہہ کر پھر نتیجہ نکالا ہے اِنِّیْ بَرِیئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَمجوسیوں نے بہت بُرا اثر پھیلایا ( ایران کے لڑیچر میں اجرام کی تعریف پائی جاتی ہے بعض مسلمان بھی اس اثر سے متاثر ہو گئے۔سکندر نامہ دیکھو پھر