حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 407 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 407

زمانۂ رسالتمآب میں اور خلافتِ راشدہ میں صُلح اور معاہدۂ امن کے بعد کُل مذہب کے لوگ مذہبی آزادی حاصل کر لیتے تھے۔خیبر کے یہود، بحرین اور غسان کے عیسائی، حضرت خاتم الانبیاء کے اور خلیفہ عمر رضی اﷲ عنہ کے وقت شام کے یہود اور عیسائی اسلام کی رعایا تھے اور اپنے مذہبی فرائض کی بجا آوری میں بالکل ازاد تھے۔عالمگیر کے عہد میں بڑے بڑے عہدوں پر ممتاز ہندوستان کے پُرانے باشندے اپنی بُت پرستی پر قائم دکھلائی دیتے۔اگر عالمگیر کی لڑائیوں سے اِسلام پر الزام ہے تو عالمگیر نے تانا شاہ سے جو ایک سیّد تھا دکن کے مُلک میں جنگ کی۔پھر اپنے مسلمان باپ اور بھائیوں کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ مخفی نہیں۔پس عالمگیر کی جنگ مذہبی جنگ کیوں خیال کی جاتی ہے؟ عالمگیر نے کبھی کسی ہندو کو تلواراِس سبب سے نہیں لگائی کہ وہ ہندو تھا اور کبھی اس نے زبردستی ان کو مسلمان نہیں کیا۔ان کی جو مذہبی عبادت اور رسومات جو قدیم سے چلی آتی تھیں ان کو نہیں روکا۔محمود کی نسبت کہیں تاریخ سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس نے اشاعتِ اسلام اور دعوتِ اسلام میں ہمّت صَرف کی ہو۔گجرات میں اِتنے دنوں تک پڑا رہا مگر ایک ہندو کو مسلمان نہ بنایا۔اپنے بھائی مسلمان امیر اسمٰعیل سے جنگ کی۔کیا وہ لڑائی بھائی کو مسلمان بنانے کے لئے تھی اور ہند کے حملے تو راجہ جے پال نے خود کرائے جس نے محمود سے لڑنے کی ابتدا کی حالانکہ محمود کا تو یہ منشاء تھا کہ تا تار کے بلادکو فتح فکرے نہ ہند کو۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۴۷،۴۸)   :اﷲ جو سمیع علیم ہے اس کی پہچان کیا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ مومنوں کا والی بن جاتا ہے۔اب مومنوں کی پہچان بتاتا ہے کہ وہ ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آتے جاتے ہیں۔ظلمت کیا ہے جس میں تمیز نہ رہے۔روشنی کیا ہے جس میں تمیز ہو سکے۔معمولی روشنی سُورج کی