حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 408 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 408

ہے پھر اس سے بڑھ کر نُورِ طبّ ہے جس سے انسان کے اندرونی امراض معلوم ہوتے۔پھر اس سے بڑھ کر نورِ فلاسفہ ہے کہ وہ خط و خال سے،بال سے ،آواز سے، ناک سے، ہونٹ سے کسی کے اخلاق پر آگاہ ہو جاتے ہیں۔پھر جن کو اس سے بھی بڑھ کر انوار دیئے جاویں وہ مومن ہیں چنانچہ فرمایااِتَّقُوْا فَرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ‘ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اﷲِپس مومن ہونے کا نشان ہے کہ اس انسان کی قوّتِ متمیّزہ بڑھتی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ تاریکیوں سے نکل کر انوار میں آتا جاتا ہے اور اپنی حالت میں دن بدن نمایاں تبدیلی پاتا ہے۔ظلمتیں بھی کئی قِسم کی ہوتی ہیں۔ایک رسم کی،مثلاً شادی آ گئی۔اب رسم کہتی ہے کہ دس ہزار روپیہ خرچ کرو۔اب گھر میں تو اپنے روپے نہیں۔پس ساہوکاروں کے پاس جاتا ہے۔وہ سُود مانگتا ہے۔خدا فرماتا ہے جو سُود دیتا یا لیتا ہے وہ خدا سے جنگ کرتا ہے۔پھر اسی طرح بڑھتے بڑھتے ایک گناہ سے کئی گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔پھر عادت کی ظلمت ہے۔یہ عادت بُری بَلاہے۔جس چیز کی عادت پڑ جاوے وہ پیچھا نہیں چھوڑتی۔بعض کو قصّہ سُننے کی دھت ہوتی ہے بعض کو ناول پڑھنے کی۔بعض کو چائے پینے کی، حُقّہ پینے کی، پان کھانے کی۔پھر ظلمت سے شہوت، حرص، غضب، سُستی، کاہلی۔پس یہ بات یاد رکھو کہ جس تعلیم سے قوّتِ ممیّزہ بڑھے وہ سچّی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء ) مِنَ الظُّلُمٰتِ: ۱۔والدین کی ظلمت ۲۔احباب کی ظلمت ۳۔کفرو شرک کی ظلمت ۴۔جہالت کی ظلمت ۵۔محبّت کی ظلمت ۶۔عجز و کسل کی ظلمت ۷۔ظلم کی ظلمت ۷۔رسم و بدعت کی ظلمت۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۴) کوئی چیز روشنی کی جاذب ہی نہیں تو روشنی دیدار لینے میں امداد نہ کرے گی گو روشنی فی الحقیقت دیکھنے کا آلہ ہے۔جب روشندان یا چراغ وغیرہ سے روشنی لے تو دوست کے دیدار سے وہ دیدار کا طالب آرام پا سکتا ہے ایسا ہی دیدار اور دیدار سے آرام تو نجات ہے اور وہ روشنی فضل اور کرمِ خداوندی ہے۔ایمان ایک روشندان یا چراغ ہے جو فضل کی روشنی کو کھینچتا ہے اور ایمان کو اس روشنی کا جاذب قرآن نے بھی کہا ہے۔(البقرۃ:۲۵۸))اﷲ کام بنانے والا ہے ایمان والوں