حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 404 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 404

روحانی مدارج کی تکمیل کی یکساں تعلیم موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔یہی باعث ہے کہ اِسلام مکمّل دین ہے۔یہ ایک نیا قِصّہ ہے کہ اسلام ہر شعبہ اور ہر حصّہ میں کیا تعلیم دیتا ہے ؟ چونکہ اِس وقت کتاب اﷲ موجود ہے اور اس کا معلّم بھی خدا کے فضل موجود ہے اور اس کا نمونہ تم دیکھ سکتے ہو مَیں صرف یہ کہوں گا قَدْتَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغیِّ۔اس کی راہ رُشد کی راہ ہے اور اس کے خلاف خواہ افراط کی راہ ہو یا تفریط کی۔اس کا نام غیّہے رُشد والوں کو مومن، متّقی ،سعید کہا گیا ہے اور غیّوالوں کو کافر، منافق، شقّی۔فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ الآیہ۔جو لوگ الہٰی حد بندیوں کو توڑ کر چلے گئے ہیں ان کو طاغوت کہا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی راہیں جن کو قُرآن نے واضح کیا اور آنحضرت نے دکھایا ان میں تو فصم ۱؎ نہیں ہے۔اَدنیٰ درجہ فصم ہے۔اس سے بڑھے تو قِصم پھر اس سے بڑھے تو قضم۔اﷲ وہ اﷲ ہے جو تمہاری دعاؤں کو سُنتا اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔الغرض یہ دین اور اس کا نتیجہ ہے قُربِ الہٰی۔جب انسان اﷲ تعالیٰ کا قُرب ہاصل کرتا ہے تو چونکہ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالّاَرْضِہے اِس لئے یہ ظلمت سے نکلنے لگتا ہے اور اس میں امتیازی طاقت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ظلمت کئی قِسم کی ہوتی ہے۔ایک جہالت کی ظلمت ہے۔پھر رسومات،عادات،عدمِ استقلال کی ظلمت ہوتی ہے۔جس جس قدر ظلمت میں پڑتا ہے اسی قدر اﷲ تعالیٰ سے دُور ہوتا چلا جاتا ہے اور جس قدر قُرب حاصل ہوتا اسی قدر امتیازی قوّت پیدا ہوتی ہے۔پس اگر کسی صُحبت میں رہ کر ظلمت بڑھتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ قُربِ الہٰی کا موجب نہیں بلکہ بُعد حرمان کا باعث ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے تو جس قدر انسان قریب ہو گا اسی قدر اس کو ظلمت سے رہائی اور نور سے حصّہ ملتا جاوے گا۔اِسی لئے ضروری ہے کہ ہر فعل اور قول میں اپنا محاسبہ کرو۔نیچے اور اُوپر کے دو لفظ ہیں جو سائنس والوں کی اصطلاح میں بھی بولے جاتے ہیںاور مذہب کی اصطلاح میں بھی ہیں۔میں نے نیچے اور اور جانے والی چیزوں پر غور کی ہے۔ڈول جُوں جُوں نیچے جاتا ہے اس کی قوّت میں تیزی ہوتی جاتی ہے اور اِسی طرح پتنگ جب اُوپر جاتا ہے پہلے اس کا ؎ اِنْفِصَام:ایک دانت سے دبائیںاور نشان پڑ جائے اسے فصمؔ کہتے ہیں اس سے بڑھ کر قصم، اس سے بڑھ کر قضم ہے۔فرمایا اس میں تو فصم بھی نہیں ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸نمبر۹ صفحہ۴۴۴)