حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 401 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 401

ہی پانی میں رکھو۔وہ پانی اس کی سرسبزی اور شادابی کی بجائے اس کے سڑنے کا موجب اور باعث ہو گا۔پس وحدت کی ضرورت ہے اِسی لئے صدقۃ الفطر بھی ایک ہی جگہ جمع ہونا چاہیئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید سے پہلے یہ صدقہ جمع ہو جاتا اور ایسے ہی زکوٰۃ کے اموال بڑی احتیاط سے اکٹھے کئے جاتے یہاں تک کہ مُنکرین کے لئے قتل کا فتوٰی دیا گیا۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے بھائیوں میں ابھی یہ وحدت پیدا نہیں ہوئی یا ہوئی ہے تو بہت کمزور ہے۔تم پر اﷲ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ تم نے اس کو کامل صفات سے موصوف مانا ہے اور یہاں تک تم نے تو چند سے حَظ اُٹھایا ہے کہ اگر کوئی غلطی سے مخلوق میں سے کسی کو ان صفات سے موصوف مانتا تھا تم نے اس کو بھی اس امام کے طفیل سے چھوڑا اور اَب تم پاک ہو گئے کہ مسیح کو خالق اور باری، محلّل ،محرّم اور مُحیٖ اور مُمیت اور عالم الغیب سمجھو۔تو جیسے یہ امتیاز حاصل کیا تھا اب کیسی ضرورت تھی کہ پھر صحابہ کی طرح تمہارے سارے تعلّقات اس شجرِ طیّبہ کے ساتھ ہوتے جس کے ساتھ پَیوند ہو کر وہ تمام پھَل لانے والے تم ہو سکتے تھے۔مجھے ہمیشہ تعجّب ہوتا ہے جب مَیں کسی کو ایسے تعلّقات سے باہر دیکھتا ہوں۔دیکھو تمہارے تعلّقات ،چال چلن، شادی و غمی، حُسنِ معاشرت، تمدّن، سلطنت کے ساتھ تعلّقات، غرض ہر قول و فعل آئندہ نسلوں کے لئے ایک نمونہ ہو گا۔پھر کیا تم چاہتے ہو کہ رحمت اور فضل کا نمونہ تم بنو یا لعنت کا۔پس دعائیں کرو کہ تم جو اس پاک چشمہ پر پہنچے ہو اﷲتعالیٰ تمہیں اس سے سیراب کرے اورعظیم الشّان فضل اور خیر کے حاصل کرنے کی تمہیں توفیق ملے اور یہ سب توفیقیں اس وقت ملیں گی جب تمہارے سب معاملات ایک درخت سے وابستہ ہوں۔پس ان سارے چندوں اور اغراض میں ایک ہی تنا اور جَڑ ہو۔پھر ایسی وحدت ہو کہ تمام دغا اور فریب کپٹ سے بَری ہو جاؤ۔شاید تم نے سمجھا ہو کہ کسی کتاب کا نام کشتیٔ نوح ہے۔نہیں۔کچھ اغراض و مقاصد ہیں۔کچھ عقائد اور اعمال ہیں۔اس پر وہی سوار ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کی تعلیم کے موافق بناتا ہے۔پھر ان سب کے بعد تقوٰی کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اﷲ تعالیٰ کے لئے ایک وقتِ معیّن تک چھوڑتا ہے۔اب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کا استعمال کیوں کرے گا۔روزہ کی غرض اور غایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اﷲ کو ناراض نہ کرے اِس لئے فرمایالَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔