حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 398
چوری اور رہزنی اس کا کام نہیں۔تاجرہے تو چونگی کا محصُول اور دوسرے ضروری محاصل کے ادا کرنے میں سُستی نہیں کرتا۔زمیندار ہے تو وقت پر لگان ادا کرتا ہے لیکن اگر وہ یہ کہے کہ بادشاہ کی ضرورت نہیں اور اس کے اعزاز و اکرام میں کمی کرے تو یہ شریر اور باغی قرار دیا جاوے گا۔اِسی طرح پر ماموروں کی مخالفت خطرناک گناہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کے حضور ہو سکتا ہے۔اِبلیس نے یہی گناہ کیا تھا۔انبیاء علیہم السّلام کے حضور شیاطین بہت دھوکے دیتے ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ بڑے ہی بَد بخت ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ذرّہ ذرّہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔جب اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے ک وہ معزّز و مکرّم اور مطاع ہو تو اس کی مخالفت کرنے والا تباہ نہ ہو تو کیا ہو۔یہی سِرّ ہے جو انبیاء و مُرسل اور مامورین کے مخالف ہمیشہ تباہ ہوئے ہیں۔وہ جُرمِ بغاوت کے مجرم ہوتے ہیں۔پس کتابوں کے بعد رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ اِنسان متکبّر ہو جاتا ہے اور پہلا گناہ دین میں خلیفۃ اﷲ کے مقابل یہی تھا اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ۔اِس میں شک نہیں کہ سُنّت اﷲ اِسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔اچھے بھی کرتے ہیں اور بُرے بھی۔مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور بُرے نہیں کرتے۔مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکوں کو بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے۔پس اگر مَلک کی طرح بھی ہو پھر بھی اعتراض سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا ورنہ لعنت کا طَوق گلے میں پڑے گا۔جزا وسزا اِس کے بعد پانچواں رُکن ایمان کا جزا و سزا پر ایمان ہے۔یہ ایک فطرتی اصل ہے اور انسان کی بناوٹ میں داخل ہے کہ جزا اور بدلے کے لئے ہوشیار اور سزا سے مضائقہ کرتا ہے۔یہ ایک فطرتی مسئلہ ہے اور اس کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ایک بچّہ بھی جب دیکھتا ہے کہ یہاں سے دُکھ پہنچے گا وہاں سے ہٹتا ہے اور جہاں راحت پہنچتی ہے وہاں خوشی سے جاتا ہے۔چِلاّ چِلاّ کر بھی جزا لینے کو تیار ہو جاتا ہے۔یہاںتک کہ فاسق و فاجر کی فطرت میں بھی یہ امر ہے۔ایک آدمی کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسرے کے سامنے ذلیل و خوار ہو۔ہر ایک چاہتا ہے کہ معزّز ہو۔مَیں نے دیکھا ہے کہ فیل ہونے سے ایک بچہ کو کیسی ذِلّت پہنچتی ہے۔بعض اَوقات اِن ناکامیوں نے خودکشیاں کرا دی ہیں اور پاس ہونے سے کیسی خوشی ہوتی ہے۔زمینداروں کو دیکھا جب بر وقت بارش نہ ہو، پھل کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔کیسا رنج ہوتا ہے۔لیکن اگر غلّہ گھر لے آئے تو کیسا