حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 391 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 391

    :ایک انبیاء کی راہ ہوتی ہے ایک بادشاہوں کی۔انبیاء کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ وہ ظلم و جَورو تعدّی سے کام لیں۔ہاں بادشاہ جبرواکراہ سے کام لیتے ہیں۔پولیس اس وقت گرفت کر سکتی ے جب کوئی گناہ کا اِرتکاب کر دے مگر مذہب گناہ کے ارادہ کو بھی روکتا ہے۔پس جب مذہب کی حکومت کو آدمی مان لیتا ہے تو پولیس کی حکومت اس کی پرہیزگاری کے لئے ضروری نہیں ہوتی۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبرواِکراہ کا تعلق مذہب سے نہیں۔پس کِسی کو جبر سے مت داخل کرو کیونکہ جو دل سے مومن نہیں ہوا وہ ضرور منافق ہے۔شریعت نے منافق اور کافر کو ایک ہی رسّی میں جکڑا ہے۔غلطی سے ایسی کہانیاں مشہور ہو گئی ہیں کہ اِسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے۔بھلا خیال تو کرو اگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو ہندوستان میں اِتنے سَو سال حکومت رہی پھر یہ ہزاروں برسوں کے مندر، شوالے اور پُستکیں کیوں موجود پائی جاتیں؟ عالمگیر کو بھی الزام دیتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور بالجبر مسلمان کرتا۔یہ کسی بیہُودہ بات ہے۔اس کی فوج کے سپہ سالار ایک ہندوتھے۔بڑا حِصّہ اس کی عمر کا اپنے بھائیوں سے لڑتے گزرا۔اس کی موت بھی تاناشاہ کے مقابل میں ہوئی۔پھر اسلام بادشاہوں کے افعال کا ذمّہ دار نہیں۔مسلمانوں نے یہی غلطی کی کہ معترضین کے مفتریات کو تسلیم کر لیا حالانکہ اِسلام دِلی محبّت و اخلاق سے حق بات ماننے کا نام ہے۔اِسی لئے اِسلام میں جبر نہیں۔یہ آیت ضروری یاد رکھنی چاہیئے۔اِسلام میں ہرگز اِکراہ نہیں۔چنانچہ پارہ گیارہ رکوع۱۰ میں فرماتا ہے  (یونس:۱۰۰) :رُشد کہتے ہیںاِصَابَۃُ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ یعنی واقعی بات کو پا لینا اور حق تک پہنچ جانا۔غَیّکہتے ہیں اس حق وصواب کی جگہ سے رُک جانے کو۔اِسلام کے چند اصول بیان کرتا ہوں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں رُشد و غیّ کو کیا امتیاز سے بیان کیا ہے۔فرمایا۔شرک نہ کرو۔وعید بتلایا۔(النّسآء:۴۹) کوئی حضرت مسیحؑ کو پُوجے یا امام حسینؓ یا سیّد عبدالقادر جیلانی کو یا درخت یا تالاب۔پہاڑ۔جانور کو سب برابر ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں خادم ہیں(الجاثیہ:۱۴)پس جو مخدوم ہونے کی بھی حیثیّت نہیں رکھتی وہ تمہاری معبود کِس طرح بن سکتی ہے۔انجیلؔ۔ویدؔ۔ژندوستاؔبدھؔ کی تعلیم میں مَیں نے عظمتِ الہٰی کی یہ راہیں ہرگز نہیں پائیں۔قرآن کا ایک رکوع مسلمانوں کو توحید