حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 390
اپنے تئیں بہت روکا۔مگر اُونگھ جو آئی دونوں شیشے آپس میں ٹکّر کھا کر ٹوٹ گئے۔:کُرسی کے معنے علم کے ہیں۔بخاری میں یہ معنے موجود ہیں۔ایک شِعر بھی یاد آ گیا ؎ تحف بہٖ بیض الوجوہ و عصبۃ کراسِیَّ بالاحداث حین تنوب (اخبار بدر قادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء) ہماری مکرّم کتاب صحیح بخاری میں جسے ہم کتاب اﷲ کے بعد اَصح الکتب مانتے ہیں لکھا ہے عِلْمُہ‘یعنی کُرسی کے معنے علم کے ہیں۔پس معنیکُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (البقرۃ:۲۵۶)یہ ہوئے کہ اﷲ تعالیٰ کا عِلم تمام بلندیوں اور زمینوں کو وسیع اور محیط ہو رہا ہے۔(نور الدین ایڈیشن سوم صفحہ ۹۴) ہرایک عیب سے پاک۔تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ موصوف۔جس کا نام ہے اﷲ۔اس کے بغیر کوئی بھی پرستش و فرمانبرداری کا مستحق نہیں۔دائم اور باقی تمام موجودات کا مدبّر اور حافظ جس کو کبھی سُستی،اُونگھ اور نیند نہ ہو۔اُسی کے تصرّف اور مِلک اور خلق میں ہیں۔آسمان و زمین اُسی کی ہستی اور یکتائی کو ثابت کرتے ہیں۔کوئی بھی نہیں کہ اس کی کبریائی، عظمت کے باعث اس پاک ذات کی پروانگی کے سوا کِسی کی سپارش بھی کر سکے۔پس کسی کو مقابلہ و حمایت کی تو کیا سَکت ہو گی۔وہ جانتا ہے تمام جو کچھ آگے ہو گا اور جو کچھ گذر چکا ہے۔موجودات کی نسبت کیا کہنا ہے۔کوئی بھی اس کے علم سے کِسی چیز کا اس کی مشیّت کے سوا احاطہ نہیں کر سکتا۔اس کا کامل علم آسمانوں اور زمینوں پر حاوی ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت سے کبھی نہیں تھکتا۔وہ شریک اور جوڑ سے بلند ہے۔(تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ ۲۵۳،۲۵۴)