حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 385 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 385

: یہ ایک مقام ہے جس پر بعض نادانوں کو تاریخی طور پر اعتراض کرنے کا موقع ملا۔پہلا اعتراض یہ ہے کہ جس ندی پر آزمائش ہوئی تھی وہ جدعون کے زمانے کی بات ہے۔جہاں داؤد جالوت کی لڑائی کا ذِکر ہے وہاں ندی کا ذکر نہیں بلکہ جدعون اور طالوت میں ۱۵۶ سال کا فرق ہے۔دوسرا اعتراض تابُوتِ سکینہ کے متعلق کہ داؤد اور جالُوت کی لرائی سے بیس سال پہلے عمالیق لوگ صندوق لے گئے تھے۔ان میں مَری پڑ گئی تو ان کو وہم ہو گیا کہ ہو نہ ہو اسی صندوق کی نحوست ہے اِس لئے انہوں نے اس صندوق کو ایک چھکڑے پر لاد کر بَیلوں کو ہانک دیا۔ساؤل ایک شخص تھا۔اس کی زمین پر یہ چھکڑا جا ٹھہرا۔کہتے ہیں یہ بیس برس پہلے کی بات ہے۔تیسرا اعتراض۔کوئی ندی وہاں نہ تھی جہاں داؤد و جالُوت کی لڑائی ہوئی۔اِن تینوں اعتراضوں کے جواب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم نَھَر کے معنے آرام و آسائش کرتے ہیں۔پس ندی کے موجود نہ ہونے کا اعتراض ختم ہؤا۔دومؔ یہ کہ یہ باتیں تم نے سموئیل کی کتاب باب ۱۷ سے لی ہیں اسی سموئیل کے باب۹،۱۰ میں لکھا ہے کہ داؤد بربط نوازوں میں نوکر تھا۔پھر لکھا ہے کہ داؤد اپنے بھائی کی روٹی لیکر آیا وہاں ایک عملیقی کے ساتھ جھگڑا دیکھا۔یہ نوجوان تھے بول اُٹھے۔مَیں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔اس پر سُموئیل نے کہا کہ یہ کون ہے۔دیکھئے۔پہلے تو اسے بربط نواز بتایا پھر یہ کہ بادشاہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کون ہے۔پھر لکھا ہے کہ اس نے کہا جو نامختون سے مقابلہ کرے مَیں اُسے لڑکی دوں گا اور (پھر) اپنی زِرہ نکال کر دی۔اِس اختلاف کو دیکھ کر محقّقینِ یورپ نے فیصلہ دیا ہے کہ سموئیل کا باب ۱۷ الحاقی ہے۔پس جن کی اصلیّت خود ہی مُشتبہ ہے ان سے قرآن پر اعتراض صحیح نہیں۔پھر ہم پوچھتے ہیں تمہاری تاریخوں میں طالوت کا لفظ کہاں ہے؟ پس یہ کہنا کہ اس کا نام ساؤل تھا یا نہ تھا فضول ہے کیونکہ قرآن شریف نے ان میں سے کسی کا نام ہی نہیں لیا۔جہاں طالوت کا ذکر ہے وہاں جالُوت کا نہیں اور جہاں جالُوت کا ہے وہاں طالوت کا نہیں۔پس دونوں کا زمانہ متحد کہاں سے ثابت ہؤا۔پھر ہم کہتے ہیں طالوت کے معنے ہیں لمبے قد والا۔بائبل میں بھی لمبے قد والا ہی لکھا ہے۔پس یہ نام نہیں۔ایسا ہی جالوت اس کو کہتے ہیں