حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 383

  جہاد کی کامیابی اِس بات پر منحصر ہے کہ فی سبیل اﷲ ہو اور سپاہی اپنے آفیسروں کی فرمانبرداری کریں۔حدیثوں میں آیا ہے کہ بعض موقع پر امتحان لینا منع ہے لیکن اِس بات کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بعض موقعوں پر امتحان لے لینا چاہیئے۔یہاں اِس صورتِ آخرہ کی مثال اِس آیت میں ہے … : ابتلاکہتے ہیں اس امر کو جس کے ذریعے فرمانبردار اور نافرماں بردار، کچّے اور پکّے میں اِمتیاز ہو جاوے۔جب طالوت ایک فوج لے کر چلے تو کئی تماش بین بھی ساتھ ہو لئے اِس لئے آپ نے ایک امتحان میں ڈالاتا جو حقیقی فرمانبردار ہیں وہ میرے ساتھ رہیں۔نَھَرٌ:اِس کے دو معنے ہیں ایک تو نہر۔دومؔ آرام و آسائش۔چنانچہ(القمر:۵۵) میں نَہَر کے معنے آسائِش کے ہیں۔نَہْر کے معنے ہوں تو کیا متقی نہر میں ڈوبے رہیں گے؟ : اس جنگل میں شہد بہت تھا۔پس جب نَھَرَ کے معنے آسائش