حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 382 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 382

پھر ایک اَور نشان بتایا کہ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ تمہیں ایسے دل (قلب) عطا ہوں گے کہ ان میں تسلّی ہو گی۔یعنی اس کے زمانے میں لوگوں کے قلوب میں ایک خاص سکینت و اطمینان نازل ہو گا۔: اور یہ وہی قوّتِ قدسیہ کا اثر ہے جو موسٰیؑ و ہارونؑ کی اولاد میں ورثہ بہ ورثہ چلا آیا ہے کہ لوگ ان کے ساتھ آرام پاتے اور ان کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں اور خود بخود لوگوں کے دِل ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔انہیں ایک خاص جذب دیا جاتا ہے۔ان کی تقریر میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔جب وہ کسی امر میں فیصلہ دیتے ہیں تو دشمن بھی اس وقت مان جاتے ہیں۔:اِس میں کچھ شک نہیں کہ دلوں کا اُٹھانا فرشتوں کا کام ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء) یَاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ:تابوت کے معنی دِل کے ہیں۔نودی شرح مسلم میں اس کی شہادت ہے۔بخاری میں ہے التّابُوت:القلب۔قرآن حل کرتا ہے (الفتح:۵)۔فَاِنَّہ‘ مِنِّیْ۔اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَامِنْککے معنی حل ہوتے ہیں۔(تذکرۃ۔ایشن چہارم صفحہ ۴۶۹) (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۳) اﷲ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا ہم سب پر اسکی بادشاہی کیونکر ہو سکے گی بلکہ ہم اس کی نسبت بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں اور اس کے پاس مال کی طرف سے کوئی وسعت نہیں۔اُس نے کہا اﷲ نے اسے تم پر چُن لیا اور اُسے علم و جسم دونوں میں کشائش دی ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۲۸)