حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 381
: یہ بہت سوچنے کی بات ہے کہ خدا کے انتخاب پر آدمؑ سے تا ایں دم ایک اعتراض ہوتا چلا آیا ہے۔پہلے آدم پر اعتراض کیا گیا پھر داؤد کا ذکر کہ دُشمن قلعہ کی دیواریں پھاند کر چڑھ آئے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے (صٓ :۲۷) ہماری سرکار پر بھی اعتراض ہؤا کہ قرآن (الزخرف:۳۲)پر کیوں نہ اُترا۔پھر ہمارے امام پر بھی کم اعتراض نہ ہوئے۔لوگ کہتے رہے کہ اَ لْآئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ امامت بنو فاطمہ کا حق ہے۔مُغلوں کو کیوں دی؟ ایک شخص نے مجھے کہا پنجاب کے ایک کور دِہ کا رہنے والا ہے۔کم از کم دہلی کا تو ہوتا۔جواب دیتا ہے کہ زَادَہ‘ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِیہ علم و قوّت میں تم سے بڑھ کر ہے اس کو نہیں مانتے تو کم از کم یہ خیال تو کرو کہ اﷲ تم سے وسیع عِلم والا ہے اور یہ اس کا اِنتخاب ہے۔وہ مالک ہے جسے چاہے سلطنت دے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍مئی ۱۹۰۹ء)