حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 380
تم جاؤ گے اور بدلہ پاؤ گے۔(نور الدین (ایڈیشن سوم) صفحہ ۲۰۹) : سے صاف ظاہر ہے کہ پہلا واقعہ موسٰیؑ کے زمانہ کا ہے۔: اس زمانہ میں جو رُوحانی بادشاہ ہوتا اُسے نابی۱؎ کہتے۔اِس قصّہ میں اﷲ مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ ایک وقت آئے گا تم میں بھی روحانی بادشاہ الگ ہو جاویں گے اور جسمانی الگ۔چنانچہ ابوبکرؓ و عمرؓ مدینہ کی خلافت تک روحانی و جسمانی بادشاہ اکٹھے رہے پھر مَلِک ۲؎ الگ منتخب ہوتے رہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء) تشحیذالاذہان جِلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۳) ۱؎۔عبانی زبان میں ۲؎ مَلِک: بادشاہ