حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 379 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 379

قرض کے معنی:اَلْقَرَضُ وَیُکْسَرُمَا ؔ۱ سَلَّفْتن مِنْ اِسَأَۃٍ اَوْ اِحْسَانٍ وَمَا ؔ۲ تُعْطِیْہِ لِتُقْضَاہُ۔ؔ۳ وَاَقْرَضَہ‘ اَعْطَاہُ قَرْضًا۔ؔ۴وَقَطَعَ لَہ‘ قِطْعَۃً یُجَازِیْ عَلَیْھَا(قاموس اللغۃ) پہلے معنی کے لحاظ سے ایسے فعل کا نام قرض ہے جس کا بدلہ ہم نے پانا ہے۔یہ قرضہ دو قِسم کا ہؤا کرتا ہے۔ایک بُرا اور ایک بھلا۔اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےَِ (الانعام:۱۶۱) یعنی کون ہے جو صرف اﷲ کے واسطے اچھے اعمال کرے۔پس اﷲ تعالیٰ اس کو اس کا بڑھا کر اجر دے جیسے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے(البقرۃ:۲۴۶) اﷲتعالیٰ اس دینے والے کو اس کے اجر میں بہت بڑھ اکر دیتے ہیں۔یاد رکھو اﷲ تعالیٰ ہر ایک نیکی کا بدلہ بڑھ چڑھ کر دیتا ہے۔دوسری ایک آیت اس کی تصریح کرتی ہے اور وہ یہ ہے   (البقرۃ:۲۶۲) ترجمہ: اﷲ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے کی مثال اُس دانہ کی ہے جس نے سات بالیاں نکالیں ہر بالی میں سَودا نے۔اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھ چڑھ کر دیتا ہے… قرآن مجید میں صاف موجود ہے لَقَدْ کَفَرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اﷲَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآئُ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا( اٰل عمران:۱۸۲) یعنی کافر ہیں جنہوں نے کہا کہ اﷲ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔کیا معنی ؟ ہم ان کی بات کو محفوظ رکھیں گے۔اور فرمایا ( فاطر:۱۶) اے لوگو تم اﷲ کے محتاج ہو اور اﷲ ہی غنی ہے… قرآنی صَداقتیں تو ہر جگہ اور ہر وقت نمایاں ہیں۔کیا جو شخص پرامیسری نوٹ لیتا یا سیونگ بینک میں ایک غریب سُود خوار اپنا روپیہ رکھتا ہے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ گورنمنٹ غریب ہے۔ہرگز نہیں۔رہی یہ بات کہ خدا کے سپرد کیا ہؤا مال بڑھتا ہے یا نہیں؟ اِس امر کی صداقت تمام جہان کو کھیتوں کے نظّارہ سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ ایک ایک دانہ سے کتنا غلّہ حاصل ہو جایا کرتا ہے۔یہی مطلب ہے اِس آیت کا جس میں لکھا ہےَ (البقرۃ:۲۴۶)اس کا ترجمہ ہؤا۔کون ہے جو اﷲ کے حضور اعلیٰ نیکی کرے ( یا اس کی رضا کے لئے مال دے) بڑھ کر دے گا اس کے لئے اﷲ لیتا ہے اور بڑھاتا ہے اور اسی کی طرف