حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 378 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 378

ھُمْ:سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ وہی مَر کر زندہ ہوئے بلکہ متکلّم مخاطب غائب کا ضمیر اس کے مثیل کی طرف بھی پھرتا ہے۔متکلّم کی مثال سُنئے۔(اٰل عمران:۱۵۵)ہم اس جگہ مقتول نہ ہوتے۔حالانکہ جو قتل ہو چکے ہیں وہ کِس طرح بول سکتے تھے۔مراد اُن کے مثیل ہیں۔مخاطب کی مثال  (البقرۃ:۵۶) غائب کی مثال  (فاطر:۱۲) جس کی عمر بڑھائی گئی اُسی کی گھٹانے کا ذکر بظاہر معلوم ہوتا ہے مراد اس کا مثیل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء)  :دشمن کا مقابلہ کرو مگر اعلائِ کلمۃ اﷲ کے لئے نفسانی غرض شامل نہ ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء)   :قرض کے لفظ پر بعض نادانوں نے اعتراض کیا ہے کہ مسلمانوں کا خدا مُفلس ہے جو اپنی مخلوق سے قرض مانگتا ہے ایسے لوگوں کو کہنا چاہیئے کہ گورنمنٹ بھی بینک میں روپیہ لیتی ہے تو کیا وہ غریب ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ، ہرچہ گیرد علّتے عِلّت شود، کے ماتحت اِس لفظ کے معنے بھی ہمارے ملک میں آ کر بگڑ گئے۔قرض کے معنے ہیں مال کا حِصّہ کاٹ کر دینا۔مقراض اِسی سے نکلا ہے۔پس اب اِن معنوں پر کوئی اعتراز نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر ۲۹ /اِپریل ۱۹۰۹ء نیز تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹)