حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 377

مسکنت لیس دی۔بیگاروں میں پکڑے جاتے۔پزاوے پکانے کا کام ان کے سپرد ہؤا۔ایک صوفی لکھتا ہے کہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جب اس کے پیٹ میں دَرد ہو تو پہلے وہ اپنی تدبیروں سے کام لیتا ہے۔مثلاً فاقہ کرتا۔پھر گھر میں جو سیانا ہو اس کی رائے پر چلتا۔پھر اپنے محلہ کے حکیم سے مشورہ لیتا ہے پھر اُس طبیب سے جو بڑا ہو۔یہاں تک کہ پھر کسی اَور مشہور طبیب کی طرف رجوع کرتا ہے جو کسی دوسرے شہر میں ہو۔آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ پھر وہ اس ملک کو چھوڑ کر محض علاج کی خاطر دوسرے ملک میں چلا جاتا ہے۔جب وہاں بھی کچھ نہیں بنتا تو پھر کسی خدا رسیدہ کے قدموں پر گِرتا ہے۔جب وہاں سے بھی مایوسی ہو تو پھر پکار اُٹھتا ہے (الانبیآء: ۸۸) تب خدا کی رحمت کادریا جوش مارتا ہے اور وہ اسے شفا دیتا ہے۔اِسی طرح بنی اسرائیل کی حالت جب یہاں تک پہنچی تو انہوں نے خدا کے حضور تضرّع کیا اور موسٰی علیہ السّلام پیدا ہوئے۔وہ انہیں اس مُلک سے نکال لائے وہاں ان کے لئے کیا تھا؟ (البقرہ:۵۰) اولاد کو ذبح کرنے اور عورتوں کو بے پَرد کرنے کی تجویزیں تھیں۔پس یہ حَذَرَا لْمَوْتِتھا جس سے ہزارو ہزار اِس ملک سے نکلے۔اب موسٰیؑ نے ان کو حکم دیا (المآئدۃ:۲۲) مگر انہوں نے بے اَدبی سے کہا کہ وہ زور آور ہیں ہم سے تو مقابلہ نہیں کیا جاتا جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو۔اِس پر اﷲ نے فرمایا ہم نے تمہیں زندہ قوم بنانے کے لئے اپنے نبی کی معرفت یہ حکم دیا تھا نہیں مانتے تو جاؤ۔مُوْتُوْا:ہلاک ہو جاؤ۔اس پر ان پر وہ حالت طاری ہوئی جو ۶ پارہ سورہ مائدۃ رکوع ۴ میں درج ہے اور وہ موسٰیؑ کی دُعا کا اثر تھا جو انہوں نے اِن الفاظ میں کی۔(المآئدۃ:۲۶) (المآئدۃ:۲۶ ) کہ چالیس سال خراب خستہ حال مارے مارے جنگلوں میں پھرتے رہیں۔چنانچہ جب یہ لوگ جو بے اَدبی میں شامل تھے ہلاک ہو چکے اور چالیس سال میں ان کے بچّے جوان ہوئے یا وہ لوگ رہ گئے جو بے اَدبی میں شریک نہ تھے۔ثُمَّ اَحْیَاھُمْ:ان کو زندہ قوم بنا دیا۔