حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 372

:تین صورتیں ہیں ایکؔ تو یہ کہ حاملہ ہو۔اِس صورت میں دوسرا نکاح نہ کرے جب تک بچّہ نہ جَن لے۔دومؔ یہ کہ حاملہ نہ ہو اِس صورت میں چار ماہ دس دن انتظار کرے۔بصورت فوتیدگی شوہر اور بصورت طلاق دینے کے۔ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍیہ سب اِس لئے کہ شاید حمل ہو تو اس مدّت میں پتہ لگ جاتا ہے یا پچھلے تعلّقات زناشوئی کا لحاظ مقصود ہے۔:بیوہ کے نکاحِ ثانی کے متعلق اکثر مسلمان تامّل کر تے ہیں۔یہ رسم بہت ہی بُری رسم اور اﷲ اور اس کے رسول صلّی اﷲ علیہ وسلم کے احکام کے خلاف ہے۔سادات میں سے وہ عورت جس پر کُل سادات کو فخر ہے جس سے سیّدوں کی اولاد چلی بیوہ تھی۔مغول کی عظمت کا سلسلہ بھی جہاں سے شروع ہوتا ہے ان کے مورثِ اعلیٰ کی بیوی بھی بیوہ تھی جیسا کہ نسل بڑھانے کا عضو مرد کے ساتھ ہے عورت کے ساتھ بھی ہے۔کھانے پینے پہننے کی خواہش اگر مرد میں ہے تو عورت میں بھی ہے۔اگر عورت کسی کی سخت بیمار ہو تو مرد کو دوسرے نکاح کی فِکر پڑ جاتی ہے اور عورت کے مرنے پر تو کوئی مرد نہیں جو عزم کرلے مَیں نکاح نہیں کروں گا۔اگر کوئی ایسا ہو تو مَیں اسے سلیم الفِطرت مرد نہیں سمجھتا۔غرض نکاحِ ثانی سے مرد کی ناک نہیں کٹتی تو عورت کی کیوں کٹنے لگی۔اِس بد رسم کا اثر مَیں نے اپنے طبّی پیشہ میں بہت دیکھا جہاں کئی شریف زادیاں اسقاطِ حمل کی دوائیاں پوچھتی پھرتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء)