حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 35
ہیں۔قرآن مجید میں بھی متّقیوں کیلئے آیا ہے یعنی اگر مظفّر و منصور فتحمند ہونا ہو تو بھی متّقی بنو۔(بدر ۲۳؍جون ۱۹۰۸ ء صفحہ ۹) ہدایت اُن لوگوں کا حِصّہ ہے جو گناہ آلُود زندگی سے بچنے والے ہوں۔پھر ایمان بِالغیب رکھیں۔دعاؤں میں لگے رہیں اور کچھ صدقہ خیرات بھی کریں۔(تشحیذالاذہان جلد نمبر صفحہ ۱۳۷) ۔نور ہے متّقیوں کے لئے۔یہی مروی ہے ابن مسعودؓ اورابن عبّاسؓ اور اَور بہت سے صحابہ ؓ سے۔اور قرآنِ مجید میں آیا ہے (اعراف : ۱۵۸)اس نور کی اِتْباع کی جو کہ اس کے ساتھ اُتارا گیا ہے۔اور فرمایا (المائدۃ:۱۶)(ضرور اﷲ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور یعنی بیان کرنے والی کتاب آئی ہے)۔خداوند کریم نے اپنی کتاب میں یہ تفسِیرفرمائی ہے ۔(بقرۃ:۱۷۸) ( لیکن نیکی اس کی ہے جو کہ اﷲپر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے اور باوجود مال کی محبّت کے پھر بھی مال دے قرابت والوں اور یتیموں،مسکینوں،مسافروں کو اور گردنوں میں۔اور جب عہد کرتے ہیں تو اس کو پُورا کرنے والے ہوتے ہیں اور سختی اور تکلیف میں اور جنگ کے وقت صبر کرنیوالے ہوتے ہیں۔انہیں لوگوں نے صدق دکھایا اور تقوٰی اختیار کیا ہے) اور دوسرے مقام پر فرمایا ہے(زمر : ۳۴) ( اور جو سچائی لایا اور اس کی تصدیق کی وہی متّقی ہیں) اور فرمایا ۔ ۔ ۔( اٰلِ عمران ۱۳۴ تا ۱۳۶) (جو تیار کیا گیا ہے ان متّقیوں کے لئے جو خرچ کرتے ہیں خوشی اور تکلیف میں اور غصّہ