حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 366 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 366

بی بی ہے اور تندرست ہیں اس دیانندی فتوٰی پر عمل در آمد کم کرتے ہوں گے۔ہاں البتہ حیوانات میں خود نَر حیوان اور ان کی مادہ حمل کے بعد ضرور متنفّر ہو جاتے ہیں مگر انسانوں میں یہ نیچر قابلِ غور ہے۔(دیباچہ نور الدین (ایڈیشن سوم) صفحہ ۴۷ تا ۴۹)      طلاق ایک اِسلامی حکم ہے جو شریعت نے ضرور تًا جائز رکھا ہے کیونکہ بعض وقت جو حقیقی تعلق میاں بی بی کا ہے وہ قائم نہیں رہ سکتا اِسی لئے اس کو قطع کرنا پڑتا ہے وہ حقیقی تعلق آیت لِتَسْکُنُوْآ اِلَیْھَا(الروم:۲۲) میں مذکور ہے کہ تسکین ہوتی ہے۔۲۔مَوَدَّۃً دوستانہ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔۳۔وَّرَحْمَۃً ۴۔خانہ داری کا اِنتظام۔عورت ایک بہت نازک صِنف ہے اور ہر طرح مدد کی محتاج ہے۔وہ تعلیم میں مرد کی برابری نہیں کر سکتی کیونکہ حمل اور بچّہ کی پرورش اور منتھلی کورس کی کمزوری اس کے لا حقِ حال ہے۔اسکے اعضا میں ایک قِسم کی نزاکت ہوتی ہے اور پھر بوجہ پَردہ عام طور سے اسے تجارب کا موقع نہیں ملتا۔پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ آنکھ کو اگر ذرا بھی دُکھ پہنچے تو ایڑی کے زخم سے اس کی زیادہ غور و