حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 365 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 365

ولادت نہ ہو۔۳۔معاشرت کے نقائص رکھتا ہو۔۴۔نان و نفقہ نہ دے سکے۔اِسی واسطے قرآن کریم میں ہے وَ لَا تُمْسِکُوْھُنّ ضِرَارًا۔اور ان احکام کی عام تعمیل پر فرمایا وَ لَا تُضَارُّوْھُنَّ وَ لَا تَتَّخِذُوْا اٰیٰتِ اﷲِ ھُزُوًااِسی طرح مرد طلاق دے سکتا ہے۔اگرعورت تقوٰی کے متعلق نفسانی اغراض پوری نہ کر سکے۔قابلِ ولادت نہ ہو۔معاشرت کے نقائص رکھتی ہو۔نکاح کے منافع شخصیہ اور نوعیہ کی خلاف ورزی کرتی ہو۔بدچلنی کے باعث فساد و مزاحمت کا باعث ہو۔پھر کبھی طلاق فوری ہو سکتی ہے جیسے لِعان۔واقعی ہم بستری سے پہلے وعدہ میں۔اور کبھی تدریجی ہوتی ہے جیسے فہمائِش۔مشروط طلاق اور مُنصفوں کے فیصلہ کے بعد۔تعدّد ازواج پر۔منع تعدّد ازواج کے نقصانات نمبر۱۔عورتوں کے قتل کے واقعات ہوں گے۔جب پہلی بی بی ناپسند ہو اور کوئی دوسری پسند آ جاوے تو ان بلا دو اقوام میں جن میں دوسری بی بی کرنا ممنوع ہے اور بایں قوم بہادر ہے پہلی کو مار دیں گے۔نمبر۲ خود کشی ہو گی۔جیسے آسٹریا کے ولی عہد کو یہ مصیبت پیش آئی جب پسندیدہ بی بی بیاہنے کی اجازت قانون اور قوم نے نہ دی۔نمبر۳ یا بے غیرتی ہو گی۔جیسے بعض… انڈین کے لئے پیش افتاد امر ہے کہ مرد دیکھتا ہے اور بول بہت مضبوط رکھتا ہے نمبر۴ یا آخر نیوگ کا فتوٰی ہو گا جیسا آریہ میں ہوا۔نمبر۵ قطع نسل بعض حالتوں میں ضرور پیش آئے گا۔نمبر۶ دختر کشی کی رسم اسی سے پَیدا ہوئی ہے کہ نہ لڑکیاں رہیں اور نہ مصائب پیش آئیں۔نکتہ۔ا۔عورتوں مردوں میں ایک قدرتی فرق ہے عورت جبر سے بھی اپنا کام دے سکتی ہے بخلاف مرد کے۔اِسی واسطے علی العموم عدالتوں میں زنا بالجبر کے مقدمات میں عورتیں ہی مدعی ہیں۔نہ جوان مرد۔۲۔عورت کے بہت مرد ہوں تو اس کی صحت قطعًا نہ رہے گی۔کنچنیوں کے حالات سے یہ تجربہ ہو سکتا ہے۔۳۔اس کے نطفۂ بے تحقیق کی پرورش مشکل ہو گی کون ذمّہ دار ہو گا۔۴۔ایک وقت میں اگر کئی طالب اس کے پیش ہو گئے تو مزاحمت اور جنگ ہو گا بشرطیکہ قوم باہمّت ہو۔۵۔قدرتی طور پر ایک عورت ایک برس میں ایک مرد کے نطفہ سے زیادہ چند مردوں کے نطفوں کے بچّے پیٹ میں نہیں رکھ سکتی اور ایک مرد چند عورتوں میں اپنے بچہ دِہ نطفہ رکھ سکتا ہے۔یہ قدرتی اجازت تعدّدازواج کی معلوم ہوتی ہے۔۶۔قرار حمل میں مشکلات ہوں گے۔وضع حمل کی ضرورتیں پیش آ جائیں گی اور حمل کے بعد مرد کو دیا نند جماع کی اجازت نہیں دیتے۔اگر کثرت ازواج نہ ہو تو قومی مردوں کی جماعت میں ان کا فتوٰی کون سُنے گا۔گو مجھے اب بھی یقین ہے کہ بیا ہے آریہ لوگ جن کی ایک