حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 364 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 364

خاص حکمت سے ایسے ذوعمل الفاظ قرآن مجید میں لاتا ہے تاکہ جنہیں قرآن کا عشق ہے ان کے لئے تدبّر کا میدان وسیع ہو۔ایک برے بزرگ گزرے ہیں جو کہتے ہیں مَیں نے بخاری رسول علیہ السّلام سے سبقًا سبقًا پڑھی ہے۔جب قرءؔ کی بحث آئی تو مَیں نے عرض کیا یہ حَیض ہے یا رسول اﷲ ؟ تو فرمایااِذَا فَرَغَتْ مِنْ قَرْئٍ۔مکرّر سہ کرر عرض کیا پھر بھی آپ نے یہی قرءؔ کا لفظ فرمایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء) قُرُؤٓ ئٍ: اِس کے معنوں میں اختلاف ہے طہر یا حیض۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۲) اِسلام نے عورت کو صاف اجازت دی ہے وہ بھی واقعاتِ ضروری کے پیش آنے پر مرد سے طلاق لے سکتی ہے۔اسے اِسلام کی اِصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔بایں ہمہ خدا تعالیٰ کی کتاب فرماتی ہے ِ(البقرۃ:۲۲۹) اور عورتوں کے حقوق کی رعایت مردوں کے ذمّہ ایسی ہے جیسی کہ عورتوں پر مردوں کے حقوق کی۔ہم نے تمام دُنیا کے قوانین اور آسمانی کتابوں میں وہ آزادی اور حقوق عورتوں کے نہیں دیکھے جو قرآن کریم میں بیان کئے ہیں۔(نورالدین ایڈیشن سوم صفحہ ۲۲۰) نکاح کے فوائد دو قِسم کے ہوتے ہیں اوّل شخصی منافع۔دومؔ نوعی مقاصد۔شخصی منافع میں مثلاً۱۔حفظِ صحت بعض بیماریوں میں۔۲۔آرام یاروغمگسار کے ساتھ ہونے کا۔۳۔قوائے شہوانی کے اقتضاء کا طرفین سے بِلا مزاحمت پورا ہونا۔۴۔ان قوائے انسانیہ کا نشوونما جن کے باعث انسان دوسرے سے تعلق پَیدا کرتا یا کِسی کا لحاظ کرتا ہے۔۵۔حِلم و مروّت و بُردباری کا اسی مدرسہ میں سبق حاصل ہوتا ہے امورِ خانہ داری کی اصلاح۔حفظِ ننگ و ناموس و حفظِ مال و اسباب۔نوعی مقاصد مثلاً حفظِ نوع، تربیتِ اولاد۔کیونکہ بے تحقیق نطفوں کی علی العموم خبرگیری نہیں ہؤا کرتی۔روسی شاہی خانہ زاد اوّل تو خصوصیّت سلطنت کے باعث مستثنیٰ ہیں پھر سوائے جنگی کاموں کی کیا تربیت پاتے ہیں۔اِس لئے شادی کا حکم اوّل تو جسمی طاقت اور مالی وسعت پر صادر ہوا ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے (النور:۳۴) اور فرمایا  (الروم: ۲۲)اور فرمایا(البقرۃ:۲۲۴) پس عورت طلاق لے سکتی ہے ۱۔اگر مرد اس کی نفسانی ضرورتوں کو پُورا نہ کر سکے۔۲۔قابل